اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 474
اصحاب بدر جلد 5 474 حضرت سعد اس آیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔یہ بھی ابن ماجہ کی روایت ہے کہ یہ آیت چھ اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی کہ میں خود یعنی حضرت سعد، ابن مسعود، صہیب، عمار، مقد ار اور بلال۔حضرت سعد نے کہا کہ قریش نے رسول اللہ صلی علیم سے کہا کہ ہم اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ ان لوگوں کے تابع ہوں۔پس تو انہیں اپنے پاس سے دھتکار دے۔راوی کہتے ہیں کہ اس بنا پر رسول اللہ صلی علیکم کے دل میں وہ بات داخل ہوئی جو اللہ نے چاہا کہ داخل ہو تو اللہ عز و جل نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی: وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدُوةِ وَالْعَشِي يُرِيدُونَ وَجْهَهُ (الانعام 53) اور تُو ان لوگوں کو 1098 نہ دھتکار جو اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے صبح بھی پکارتے ہیں اور شام کو بھی۔28 بہر حال اس آیت کی وجہ جو بھی تھی لیکن یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی الی یکم نے یہی جواب دیا۔ایک روایت کے مطابق حضرت مقداد پہلے صحابی تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں گھوڑے پر لڑائی میں حصہ لیا۔1099 یہ بھی تھوڑا سا پہلے بیان ہو چکا ہے۔حضرت مقداد سے روایت ہے کہ وہ ایک روز قضائے حاجت کے لیے بقیع کی طرف گئے جو قبرستان ہے۔لوگ اس وقت دو تین روز بعد قضائے حاجت کے لیے جایا کرتے تھے اور وہ قضائے حاجت کے لیے ایک ویرانے میں داخل ہوئے اور اس دوران میں کیونکہ کھانا بہت کم ہو تا تھا اور کہتے ہیں کہ پاخانہ بھی اونٹ کی مینگنیوں کی طرح ہو تا تھا اور اس دوران میں قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے ایک چوہا دیکھا جس نے ہل میں سے ایک دینار نکالا۔پھر اندر گیا اور ایک اور دینار نکالا حتی کہ اس نے سترہ دینار نکالے۔اس کے بعد ایک سرخ رنگ کا کپڑا نکالا۔حضرت مقداد کہتے ہیں کہ میں نے اس کپڑے کو کھینچا تو اس میں ایک دینار پایا اس طرح اٹھارہ دینار ہو گئے۔پھر میں ان کو لے کر نکلا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ساری بات بتائی اور عرض کیا یارسول اللہ ! اس کا صدقہ لے لیجیے۔آپ نے فرمایا اس کا کوئی صدقہ نہیں ہے۔انہیں لے جاؤ۔اللہ تعالیٰ ان میں تمہارے لیے برکت ڈال دے۔پھر آپ نے فرمایا شاید تم نے اس سوراخ میں ہاتھ ڈالا ہو گا۔میں نے عرض کیا کہ نہیں اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ذریعہ عزت بخشی ہے! کہ میں نے ہاتھ نہیں ڈالا تھا بلکہ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے میرے لیے انتظام کر دیا۔100 جبير بن نفير روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ہم حضرت مقداد کے ساتھ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا کیا ہی مبارک آنکھیں ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ ﷺ کا دیدار کیا ہے۔اللہ کی قسم ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم بھی دیکھتے جو آپ نے دیکھا ہے۔صحابہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ جو آپ لوگوں نے دیکھا ہے اور ہم بھی اس کا مشاہدہ کرتے جس کا آپ نے مشاہدہ کیا ہے۔یہ سن کر حضرت مقد ار غصہ میں آگئے۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے بڑے تعجب سے پوچھا کہ اس شخص نے تو محض خیر کی بات کی ہے۔حضرت مقداد نے اس شخص کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو