اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 457

اصحاب بدر جلد 5 457 اپنی قوم سے کہا کہ یہ لوگ سچ کہتے ہیں ہم نے محمد رسول اللہ صلی علی ایم کی جو خدمت کی اور آپ کی نصرت و تائید کی وہ دنیاوی اغراض سے نہیں کی تھی اور نہ اس لئے کی تھی کہ ہمیں آپ کے بعد حکومت ملے بلکہ ہم نے خدا تعالیٰ کے لئے کی تھی۔پس حق کا سوال نہیں ہے کہ ہمارا حق ہے امیر بنے یا ہم میں سے خلیفہ بنے بلکہ سوال اسلام کی ضرورت کا ہے اور اس لحاظ سے مہاجرین میں سے ہی امیر مقرر ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے رسول کریم صلی علیم کی لمبی صحبت پائی ہے۔اس پر کچھ دیر تک اور بحث ہوتی رہی مگر آخر آدھ پون گھنٹے کے بعد لوگوں کی رائے اسی طرف ہوتی چلی گئی کہ مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کرنا چاہئے چنانچہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ کو اس منصب کے لئے پیش کیا۔حضرت ابو بکر نے خود پیش کیا پھر کہ یا حضرت عمر ہیں یا حضرت ابو عبیدہ نہیں ان دونوں میں سے کسی کی بیعت کر لینی چاہئے مگر دونوں نے انکار کیا اور کہا کہ جسے رسول کریم صلی علی ایم نے اپنے بیماری کے دنوں میں نماز کا امام بنا یا تھا اور جو سب مہاجرین میں سے بہتر ہے ہم تو اس کی بیعت کریں گے۔جب حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کا اور حضرت ابو عبیدہ کا نام خلافت کے لئے پیش کیا تو اس پہ حضرت عمر نے خود جو بیان کیا ہے جو پچھلا تسلسل چل رہا تھا تو حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس بات کے سواجیسا کہ انہوں نے کہا نہ یہ بڑی اعلیٰ تقریر کی حضرت ابو بکر نے اس میں یہ باتیں بھی ہوئیں۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ ساری باتیں بڑی اعلیٰ تھیں لیکن اس بات کے سوا میں نے اور کوئی بات نا پسند نہیں کی جو انہوں نے کہی یعنی کہ حضرت عمر کا نام پیش کیا یا حضرت ابو عبیدہ کا نام پیش کیا۔آپ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم یہ حال تھا جب میرا نام حضرت ابو بکر نے پیش کیا کہ اگر مجھے آگے بڑھا کر میری گردن اڑا دی جاتی تاکہ یہ موت مجھے کسی گناہ کے قریب نہ پھٹکنے دے تو مجھے یہ بات زیادہ پسند تھی اس سے کہ میں ایسی قوم کا امیر بنوں جس میں ابو بکر ہوں یعنی ان کا مقام ایسا ہے کس طرح ہو سکتا ہے اس وقت مجھے حضرت ابو بکر کی موجودگی میں امیر بنا دیا جائے تو ابو بکر دیا میں نے اس کو ناپسند کیا باقی تقریر بہت اعلیٰ تھی۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں حضرت عمر نے جب کہا کہ جو مہاجرین میں سے سب سے بہتر ہے ہم اس کی بیعت کریں گے تو مطلب یہ تھا کہ اس منصب کے لئے حضرت ابو بکر سے بڑھ کر اور کوئی شخص نہیں چنانچہ اس پر حضرت ابو بکر کی بیعت شروع ہو گئی پہلے حضرت عمر نے بیعت کی پھر حضرت ابو عبیدہ نے بیعت کی پھر بشیر بن سعد خزرجی نے بیعت کی اور پھر اوس اور پھر خزرج کے دوسرے لوگوں نے اور اس قدر جوش پیدا ہوا اس وقت کہ سعد جو بیمار تھے اور اٹھ نہ سکتے تھے ان کی قوم ان کو روندتی ہوئی آگے بڑھ کر بیعت کرتی تھی چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں سعد اور حضرت علی کے سواسب نے بیعت کر لی۔حتی کہ سعد کے اپنے بیٹے نے بھی بیعت کر لی۔حضرت علی نے کچھ دنوں بعد بیعت کی چنانچہ بعض روایات میں تین دن آتے ہیں اور بعض روایات میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ نے چھ ماہ کے بعد بیعت کی تھی۔چھ ماہ والی روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ کی تیمار داری میں مصروفیت کی وجہ