اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 455
اصحاب بدر جلد 5 455 اہل ہو اس کے سپر د یہ کام ہونا چاہئے۔اس دوسرے گروہ کے پھر آگے دو حصے ہو گئے اور گو وہ دونوں اس بات پر متحد تھے کہ رسول کریم صلی اللہ کمر کا کوئی جانشین ہونا چاہئے مگر ان میں سے اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ رسول کریم کا جانشین کن لوگوں میں سے ہو۔ایک گروہ کا خیال تھا کہ جو لوگ سب سے زیادہ عرصے تک آپ کے زیر تعلیم رہے ہیں وہ اس کے مستحق ہیں یعنی مہاجر اور ان میں سے بھی قریش جن کی بات ماننے کے لئے عرب تیار ہو سکتے ہیں اور بعض نے یہ خیال کیا کہ چونکہ رسول کریم صلی للی نیم کی وفات مدینہ میں ہوئی ہے اور مدینہ میں انصار کا زور ہے اس لئے وہی اس کام کو اچھی طرح چلا سکتے ہیں۔بہر حال اس پر انصار اور مہاجرین میں اختلاف بھی ہوا غرض اب انصار اور مہاجرین میں اختلاف ہو گیا انصار کا یہ خیال تھا کہ چونکہ رسول کریم صلی ال یکم نے اصل زندگی جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ہمارے اندر گزاری ہے انصار یہ کہتے تھے مدینہ میں گزاری ہے اور مکہ میں کوئی نظام نہیں تھا اس لئے نظام حکومت ہم ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور خلافت کے متعلق ہمارا ہی حق ہے کسی اور کا حق نہیں ہے۔دوسری دلیل وہ یہ دیتے تھے کہ یہ علاقہ ہمارا ہے اور طبعاً ہماری بات کا ہی لوگوں پر زیادہ اثر ہو سکتا ہے مہاجرین کا اثر نہیں ہو سکتا پس رسول کریم صلی اللی کام کا جانشین ہم میں سے ہونا چاہئے مہاجرین میں سے نہیں اس کے مقابلے میں مہاجرین یہ کہتے تھے کہ رسول کریم صلی للی کم کی جتنی لمبی صحبت ہم نے اٹھائی ہے اتنی لمبی صحبت انصار نے نہیں اٹھائی اتنا عرصہ ان کے ساتھ نہیں رہے اس لئے دین کو سمجھنے کی جو قابلیت ہمارے اندر ہے وہ انصار کے اندر نہیں ہے۔اس اختلاف پر آپ لکھتے ہیں کہ اس اختلاف پر ابھی دوسرے لوگ غور ہی کر رہے تھے اور وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے تھے کہ اس آخری گروہ نے جو انصار کے حق میں تھا بنی ساعدہ کے ایک برآمدہ میں جمع ہو کر اس بارہ میں مشورہ شروع کر دیا اور سعد بن عبادۃ جو خزرج کے سر دار تھے اور نقباء میں سے تھے ان کے بارے میں طبائع کا اس طرف رجحان ہو گیا کہ انہیں خلیفہ مقرر کیا جائے چنانچہ انصار نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک ہمارا ہے زمینیں ہماری ہیں جائیدادیں ہماری ہیں اور اسلام کا فائدہ اسی میں ہے کہ ہم میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو فیصلہ کیا اس بات پر کہ اس منصب کے لئے سعد بن عبادۃ سے بہتر اور کوئی شخص نہیں۔یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ بعض نے کہا کہ اگر مہاجرین اس کا انکار کریں گے تو کیا ہو گا۔سوال اٹھا۔اس پر کسی نے کہا کہ پھر ہم کہیں گے کہ منا آمیز وَمِنكُمْ آمیر یعنی ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے۔سعد جو بہت دانا آدمی تھے انہوں نے کہا کہ یہ تو پہلی کمزوری ہے۔جن کو امیر بنانا چاہتے تھے خلیفہ انصار انہوں نے کہا کہ یہ تو پہلی کمزوری ہے یعنی یا تو ہم میں سے خلیفہ ہونا چاہئے یا ان میں سے۔مِنَّا آمِیرٌ وَمِنكُمْ آمیز کہنا تو گویا خلافت کے مفہوم کو نہ سمجھنا ہے اور اس سے اسلام میں رخنہ پڑے گا اور یہ رخنہ ڈالنا ہے۔اس مشورے کے بعد جب مہاجرین کو اطلاع ہوئی تو وہ جلدی سے وہیں آگئے جیسا کہ حضرت عمر نے بیان فرمایا جو پہلے ذکر ہو چکا کہ آپ حضرت ابو بکر اور کچھ اور لوگ گئے وہاں۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر مہاجرین میں سے کوئی خلیفہ نہ