اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 452

اصحاب بدر جلد 5 452 میں سے عبد الرحمن بن عوف بھی تھے۔ایک بار میں ان کے اس گھر میں تھا جو منی میں ہے اور وہ عمر بن خطاب کے پاس گئے ہوئے تھے۔یہ واقعہ اس آخری حج کا ہے جو حضرت عمر نے کیا تھا۔جب عبد الرحمن میرے پاس واپس لوٹ کر آئے عبد الرحمن بن عوف۔واپس لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کاش تم بھی اس شخص کو دیکھتے جو آج امیر المؤمنین کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ امیر المؤمنین ! کیا آپ کو فلاں حکم کے متعلق علم ہوا کہ جو کہتا ہے کہ اگر عمر گئے تو میں فلاں کی بیعت کروں گا یعنی پہلے ہی بتا رہا ہے حضرت عمر کے خلافت کے وقت میں کہ آپ کے بعد پھر میں فلاں کی بیعت کروں گا اور پھر اس نے کہا کہ اللہ کی ابو بکر کی بیعت تو یوں ہی افرا تفری میں ہو گئی تھی۔پھر یہ ہی نہیں کہ انگلی کا اظہار کر دیا بلکہ یہ بھی اظہار کر دیا کہ حضرت ابو بکر کی بیعت نعوذ باللہ افرا تفری میں غلطی سے ہو گئی تھی اور اس طرح وہ ان کی خلافت کا مقام ان کو ملا۔یہ سن کر حضرت عمر رنجیدہ ہوئے پھر انہوں نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو میں آج شام لوگوں میں کھڑا ہوں گا اور انہیں ان لوگوں سے چوکس کروں گا جو ان کے معاملات کو زبر دستی اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ امیر المؤمنین ایسانہ کریں کیونکہ حج میں عامی لوگ اور او باش بھی اکٹھے ہوئے ہوتے ہیں تو جب آپ لوگوں میں کھڑے ہوں گے تو یہی لوگ زبر دستی آپ کے قریب ہو جائیں گے اکٹھے ہو جائیں گے اور میں ڈرتا ہوں کہیں آپ کھڑے ہو کر ایسی بات نہ کہہ دیں کہ ہر بات اڑانے والا آپ کے متعلق کچھ اور کا اور نہ اڑادے اپنی طرف سے باتیں لگا کے کچھ اور ہی مشہور نہ کر دے اور لوگ اسے نہ سمجھیں اور نہ ہی مناسب محل پر اسے چسپاں کریں۔سمجھ بھی نہ آئے اور پھر صحیح موقع پر اس کو چسپاں بھی نہ کریں اس کی وضاحت بھی نہ ہو سکے۔پھر انہوں نے مشورہ دیا حضرت عمر کو کہ آپ اس وقت تک انتظار کریں کہ مدینہ میں پہنچیں۔حج کے دن تھے۔مدینہ پہنچیں گے کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے وہاں کیا ہو گا کہ سمجھدار اور شریف لوگوں کو الگ تھلگ لے کر جو آپ نے کہنا ہو انہیں اطمینان سے کہیں۔اور کہا کہ میں نے کہا کہ اہل علم آپ کی بات سمجھیں گے اور مناسب محل پر اسے چسپاں بھی کریں گے۔اپنی اپنی تشریحیں نہیں کرنی لگ جائیں گے۔پھر حضرت عمر نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے اللہ کی قسم ان شاء اللہ پہلی بار جو مدینہ میں خطبہ کے لئے کھڑا ہوں گا تو یہ بات بیان کروں گا پھر میں وہاں جاتے ہی۔ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم مدینہ ذوالحجہ کے اخیر میں پہنچے اور جب جمعہ کا دن ہو ا تو جو نہی سورج ڈھلا ہم جلدی مسجد میں آگئے جمعہ کا وقت ہوا۔وہاں پہنچ کر میں نے سعید بن زید کو منبر کے پاس بیٹھے ہوئے پایا تو میں بھی انکے پاس بیٹھ گیا۔میر ا گھٹنا اسکے گھٹنے سے لگ رہا تھا۔اب یہ پوری تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ حضرت عمر بن خطاب نکلے۔جب میں نے انہیں سامنے سے آتے دیکھا تو میں نے سعید بن زید سے کہا کہ آج وہ ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے جب سے کہ وہ خلیفہ ہوئے نہیں کہی۔انہوں نے میری بات کو عجیب سمجھا جو ان کے پاس بیٹھا تھا صحابی انہوں نے عجیب سمجھا۔کہنے لگے