اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 431
اصحاب بدر جلد 5 431 سامنا ہو جائے تو پھر ڈر کے دوڑ نہیں جانا خواہ لوگ ہلاک ہو جائیں۔پھر فرمایا اگر لوگ طاعون جیسی و با کا شکار ہو جائیں اور تم ان کے درمیان ہو تو اپنی جگہ پر ہی رہو۔طاعون کی بیماری اگر پھیلتی ہے، کوئی بھی ایسی وبا پھیلتی ہے جو وسیع طور پر پھیلنے والی ہے تو پھر اگر تم بیماری کے علاقے میں ہو تو جہاں ہو وہیں رہو۔پھر فرمایا کہ اپنے اہل و عیال پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرو۔جتنی طاقت ہے اتنا ان پہ خرچ کرو، ان کے حق ادا کرو اور ان کی تادیب و تربیت میں کوتاہی نہ کرو۔پھر ان کی تربیت صحیح طرح کرو اور کہیں تھوڑی بہت سختی بھی کرنی پڑے تو وہ بھی کرو تاکہ ان کی صحیح تربیت ہو اور انہیں خدا کا خوف یاد دلاتے رہو۔یہ دس باتیں ہیں جو آپ نے ان کو فرمائیں۔991 حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی ا ولم نے حضرت معاذ سے فرمایا اے معاذ! میں تمہیں مشفق بھائی کی نصیحت جیسی نصیحت کرتا ہوں۔یہ روایت ابن عمرؓ سے ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے یہ فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔مریض کی عیادت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔بیواؤں اور ضعیفوں کی ضروریات پوری کرنے کی نصیحت کر تا ہوں۔ضرورت مندوں اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھنے اور لوگوں کو اپنی طرف سے انصاف فراہم کرنے اور حق بات کہنے اور اس بات کی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمہارے آڑے نہ آئے۔992 حضرت عمر نے ایک دفعہ اپنے ساتھیوں سے کہا: کسی چیز کی خواہش کرو۔کسی نے کہا میری خواہش ہے کہ یہ گھر سونے سے بھر جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور صدقہ کر دوں۔ایک شخص نے کہا میری خواہش ہے کہ یہ مکان ہیرے جواہرات سے بھر جائے اور میں اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کروں اور صدقہ کر دوں۔صحابہ کی کیسی عجیب اور عظیم خواہشیں تھیں۔پھر حضرت عمرؓ نے کہا اور خواہش کرو۔انہوں نے کہا اے امیر المومنین! ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ ہم کیا خواہش کریں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا میری یہ خواہش ہے کہ یہ گھر حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت معاذ بن جبل “ اور سالم مولیٰ ابو حذیفہ اور حضرت حذیفہ بن یمان جیسے لوگوں سے بھرا ہوا ہو۔993 پچھلی دفعہ بھی یہ واقعہ بیان کیا تھا۔اس دفعہ حضرت معاذ بن جبل کے ذکر میں بھی یہ روایت آگئی۔حضرت معاذ 9 ہجری سے 11 / ہجری تک دو سال یمن میں رہے۔رض حضرت عمر کا چار سو دینار حضرت معاذ کی طرف بھیجا اور۔۔۔۔۔۔994 ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نے چار سو دینار ایک تھیلی میں ڈالے اور غلام سے کہا حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے پاس لے جاؤ۔(یہ گذشتہ خطبے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے ذکر میں بھی بیان ہوا تھا لیکن اس کی بقایا تفصیل رہ گئی تھی تو اس لیے پوری تفصیل اب بیان کر دیتا ہوں) اور گھر میں ان کے پاس تھوڑی دیر ٹھہر و۔دیکھو کہ وہ اس مال کے ساتھ کیا کریں گے۔چنانچہ غلام تھیلی لے کر ان کے پاس گیا اور کہا