اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 398
اصحاب بدر جلد 5 398 اب تھے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ کریم نے فرمایا کیا حال ہو گا تمہارا اس وقت جبکہ تم میں سے ایک شخص ایک جوڑے میں صبح کرے گا تو دوسرے جوڑے میں شام کرے گا یعنی اتنی فراخی پیدا ہو جائے گی کہ صبح شام تم کپڑے بدلا کرو گے اور پھر آپ نے فرمایا کہ اس کے سامنے ایک برتن کھانے کا رکھا جائے گا تو دوسرا اٹھایا جائے گا یعنی کھانا بھی قسم قسم کا ہو گا اور مختلف کورسز (courses) سامنے آتے جائیں گے جس طرح آج رواج ہے۔اور تم اپنے مکانوں میں ایسے ہی پر دے ڈالو گے جیسا کہ کیسے پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔بڑے قیمتی قسم کے پر دے استعمال کیے جائیں گے۔یہ بالکل آج کل کے نظارے یا اس کشائش کے نظارے ہیں۔مسلمانوں کو بعد میں وہ کشائش ملی۔صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اس وقت آج سے بہت اچھے ہوں گے اور عبادت کے لیے فارغ ہوں گے ایسی فراخی ہو گی، ایسے حالات ہوں گے تو پھر عبادت کے لیے بالکل فارغ ہوں گے اور محنت اور مشقت سے بچ جائیں گے ؟ تو رسول اللہ صلی المینیم نے فرمایا نہیں بلکہ تم آج کے دن ان دنوں سے بہتر ہو۔909 تمہاری حالت، تمہاری عبادتیں، تمہارے معیار اس سے بہت بلند ہیں جو بعد میں آنے والوں کے کشائش کی صورت میں ہوں گے۔ہجرت حبشہ کی تفصیل سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ہجرت حبشہ کے بارے میں لکھا ہے اس میں سے کچھ میں پہلے دوسرے صحابہ کے ذکر میں بیان کر چکا ہوں۔910 مختصر یہاں ذکر کر دیتا ہوں کہ آنحضرت صلی للہ یلم کے فرمانے پر ماہ رجب پانچ نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں حضرت مصعب بن عمیر بھی تھے۔آپ لکھتے ہیں کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقتور قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور کمزور لوگ کم نظر آتے ہیں جس سے دو باتوں کا پتا چلتا ہے۔اول یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہ تھے۔دوسرے یہ کہ کمزور لوگ مثلاً غلام و غیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی بھی طاقت نہ رکھتے تھے۔بہر حال قریش مکہ کو ان لوگوں کی ہجرت کا جب علم ہوا تو وہ سخت برہم ہوئے کہ یہ شکار مفت میں ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔چنانچہ انہوں نے ان مہاجرین کا پیچھا کیا مگر جب ان کے آدمی ساحل پر پہنچے تو جہاز روانہ ہو چکا تھا اور یہ لوگ ناکام واپس لوٹے۔حبشہ میں پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکار املا۔911 مدینہ کے پہلے مبلغ و مربی کے طور پر تقرر بیعت عقبہ اولی کے موقعے پر مدینہ سے آئے ہوئے بارہ افراد نے رسول اللہ صلی یکم کے ہاتھ پر بیعت کی۔جب یہ لوگ واپس مدینہ جانے لگے تو نبی کریم صلی الی یکم نے حضرت مصعب بن عمیر ہو ان کے ساتھ بھجوایا تا کہ وہ انہیں قرآن پڑھائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔مدینہ میں آپ قاری اور مقری، استاد