اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 393

اصحاب بدر جلد 5 393 سے کتنا صدمہ پہنچا ہے۔جب سعد بن معاذ نے یہ بات کی تو دوسرے قبیلہ کو غصہ آگیا۔چنانچہ سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سعد بن معاذ سے کہا کہ تم ہمارے آدمی کو نہیں مار سکتے اور نہ تمہاری طاقت ہے کہ ایسا کر سکو۔اس مکالمے میں دوسرے صحابی بھی اٹھے اور انہوں نے کہا کہ ہم اسے مار ڈالیں گے اور دیکھیں گے کون اسے بچاتا ہے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اب بجائے اس کے کہ یہ مقابلہ باتوں تک ہی رہتا اوس اور خزرج نے میانوں سے تلواریں نکالنی شروع کر دیں کہ با قاعدہ جنگ ہونے لگی تھی۔رسول کریم صلی کلیم نے بڑی مشکل سے ان کو ٹھنڈا کیا۔اوس کہتے تھے کہ جس شخص نے رسول کریم صلی علیکم کو دکھ دیا ہے اس کو ہم مار ڈالیں گے اور خزرج کہتے تھے کہ تم یہ بات اخلاص سے نہیں کرتے۔چونکہ تم جانتے ہو کہ وہ ہم میں سے ہے اس لئے یہ بات کہتے ہو۔بہر حال یہ بات بھی ثابت ہے کہ ان دونوں کو رسول کریم صلی اللی کم سے محبت بھی تھی مگر شیطان نے ان میں فتنہ پیدا کر دیا۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ اس وقت کی حالت کے متعلق ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کیسی دردناک حالت ہو گی۔ادھر رسول کریم صلی کم کو اتنی ایذاء پہنچ رہی تھی اور ادھر مسلمانوں میں تلوار چلنے تک نوبت پہنچی ہوئی تھی۔تو شیطان بعض دفعہ نیکوں میں بھی یہ حالت کر دیتا ہے۔بہر حال پھر آگے حضرت مصلح موعود وہی واقعہ بیان کرتے ہیں جو حضرت عائشہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت عائشہ سے یہ سارا واقعہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر میں مانوں گی تو جھوٹ کہوں گی۔اگر اپنے آپ کو بری ثابت کروں گی تو آپ لوگ یقین نہیں کریں گے۔اس وقت میں وہی کہتی ہوں جو حضرت یوسف کے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا تھا کہ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ (ف: 19) کہ اچھی طرح صبر کرنا ہی میرے لئے مناسب ہے اور اس بات کے لئے اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے اور مانگی جاتی ہے۔بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے یہ کہا کہ وہاں سے اٹھ کر میں اپنے بستر پہ آگئی۔اس پر پھر یہ آیت نازل ہوئی جو میں نے ابھی پہلے پڑھی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے خطر ناک جھوٹ بولا ہے وہ تمہی میں سے ایک گروہ ہے مگر تم اس کے اس الزام کو اپنے لئے کسی خرابی کا موجب نہ سمجھو بلکہ خیر کا موجب سمجھو کیونکہ اس الزام کی وجہ سے جھوٹا الزام لگانے والوں کی سزاؤں کا جلدی ذکر ہو گیا اور تمہیں ایک پر حکمت تعلیم مل گئی۔اور یقینا اس میں سے ہر شخص اپنے اپنے گناہ کے مطابق سزا پائے گا اور جو شخص اس گناہ کے بڑے حصہ کا ذمہ دار ہے اس کو بہت بڑا عذاب ملے گا۔بہر حال اس وحی کے بعد آنحضرت صلی علیکم کا چہرہ روشن ہوا اور اس وقت حضرت عائشہ کہتی ہیں میری والدہ نے کہا کہ آنحضرت صلی للی کم کا شکر کرو تو میں نے یہی کہا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گی۔98 898 واقعہ افک میں شامل ہونے والوں کی سزا الله بہر حال جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی ایک جگہ ایک خطبہ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت عائشہ پر الزام لگانے کی وجہ سے تین اشخاص کو کوڑے لگے تھے جن میں سے