اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 383
اصحاب بدر جلد 5 383 889 کیا تھا۔حضرت مسطح غزوہ بدرسمیت دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی لی ایم کے ساتھ شامل ہوئے۔19 ہجرت کے آٹھ مہینے کے بعد رسول اللہ صلی الم نے حضرت عبیدہ بن حارث کو ساٹھ یا ایک روایت کے مطابق اسی سواروں کے ساتھ روانہ کیا۔رسول اللہ صلی علیہم نے حضرت عبیدہ بن حارث کے لئے ایک سفید رنگ کا پرچم باندھا، ایک جھنڈ ابنایا جسے مِسطح بن اثاثہ نے اٹھایا۔اس سیریہ کا مطلب یہ تھا کہ قریش کے تجارتی قافلے کو راہ میں روک لیا جائے۔قریش کے قافلے کا امیر ابوسفیان تھا، بعض کے مطابق عِكْرِمہ بن ابو جہل اور بعض کے مطابق مِكْرَز بن حفص تھا۔اس قافلے میں 200 آدمی تھے جو مال لے کر جارہے تھے۔صحابہ کی اس جماعت نے رابغ وادی پر اس قافلے کو جالیا، اس مقام کو وڈان بھی کہا جاتا ہے۔یہ قافلہ صرف تجارتی قافلہ نہیں تھا بلکہ جنگی سامان سے لیس بھی تھا اور اس قافلے کی جو آمد ہوئی تھی وہ بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں استعمال ہوئی تھی کیونکہ واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ وہ پوری طرح سے تیار تھے۔بہر حال یہ لوگ جب گئے تو دونوں فریق کے درمیان تیر اندازی کے علاوہ کوئی مقابلہ نہیں ہوا اور لڑائی کے لئے باقاعدہ صف بندی بھی نہیں ہوئی۔سب سے پہلا تیر جو اسلام کی طرف سے چلایا گیا پہلے بھی اس کا ایک اور صحابی کے ذکر میں ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہے۔وہ صحابی جنہوں نے مسلمانوں کی جانب سے پہلا تیر چلایا وہ حضرت سعد بن ابی وقاص تھے اور یہ وہ پہلا تیر تھا جو اسلام کی طرف سے چلایا گیا۔اس موقع پر حضرت مقداد بن اسود اور حضرت عيينه بن غزوان، (سیرت ابن ہشام اور تاریخ طبری میں عُتبہ بن غزوان ہے) مشرکوں کی جماعت سے نکل کر مسلمانوں میں آملے کیونکہ ان دونوں نے اسلام قبول کیا ہوا تھا اور وہ مسلمانوں کی طرف جانا چاہتے تھے۔حضرت عبیدہ بن حارث کی سر کردگی میں یہ اسلام کا دوسرا سریہ تھا۔تیر اندازی کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹ گئے۔پہلے بھی کسی خطبہ میں ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہے۔اور مشرکین پر مسلمانوں کا اس قدر رعب پڑا کہ انہوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کا بہت بڑا لشکر ہے جو ان کی مدد کر سکتا ہے۔لہذا وہ خوفزدہ ہو کر واپس چلے گئے اور مسلمانوں نے بھی ان کا پیچھا نہیں 891 890 کیونکہ مقصد جنگ نہیں تھا صرف ان کو روکنا تھا اور یہ سبق دینا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف اگر وہ تیاری کریں گے تو مسلمان بھی تیار ہیں۔آنحضور صلی نیلم نے خیبر کے موقع پر حضرت مسطح اور ابن الیاس کو پچاس وسق غلہ عطا فرمایا ( اس زمانے میں مال غنیمت میں یہ دیا جاتا تھا طبقات الکبریٰ میں یہ باتیں لکھی ہیں)۔وفات ان کی وفات 56 برس کی عمر میں 34 ہجری میں حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں ہوئی اور یہ بھی کہا