اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 354

اصحاب بدر جلد 5 354 حضرت محرز کی شہادت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔حضرت آياس بن سلمه غزوہ ذی قرد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ واقعہ کے بعد ہم مدینہ کی طرف واپس جانے کے لیے نکلے۔پھر ہم ایک جگہ اترے۔ہمارے اور بنو یخیان کے درمیان ایک پہاڑ تھا۔وہ مشرک تھے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ ہم نے اس شخص کے لیے دعا کی جو اس پہاڑ پر رات کو چڑھے گویا وہ نبی صلی علیکم اور صحابہ کے لیے حالات پر نظر رکھنے اور حفاظت کی غرض سے جاسوس کا کام دے یعنی نگرانی کے لیے، حفاظت کے لیے اوپر چڑھے۔دیکھے کہ کوئی دشمن وغیرہ حملہ آور نہ ہو جائے۔حضرت سلمہ بن اکوع کہتے ہیں میں اس رات دو یا تین مرتبہ چڑھا۔پھر ہم مدینہ پہنچے۔پھر کہتے ہیں کہ رسول الله صلى الم نے رباح نامی آدمی کے ہاتھ اپنے اونٹ بھیجے جو رسول اللہ صلی علیکم کا غلام تھا اور میں حضرت طلحہ کے گھوڑے کے ساتھ اس پر سوار ہو کر نکلا اور میں اس کو اونٹوں کے ساتھ پانی پلانے کے لیے جارہا تھا۔جب صبح ہوئی تو عبد الرحمن فزاری نے رسول اللہ صلی علیم کے اونٹوں پر حملہ کیا۔ساتھ ایک قبیلہ تھا جو دشمن تھا اور سب کو ہانک کر لے گیا اور ان کے چرواہے کو قتل کر دیا۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے رباح ! یہ گھوڑا پکڑو اور اسے طلحہ بن عبید اللہ کو پہنچادو اور رسول اللہ صلی ایم کو خبر دو کہ مشرکوں نے آپ کے جانور لوٹ لیے ہیں۔پھر میں ایک ٹیلے پر مدینے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوا اور تین دفعہ پکارا يَا صَبَاحَاهُ : يَا صَبَاحَاهُ ! یہ کلمہ اہل عرب اس وقت کہا کرتے تھے جب کوئی دشمن لوٹنے والا غارت کرنے والا صبح کو آپہنچتا تھا تو اس کے ساتھ یہ نعرہ مارتے تھے گویا بلند آواز سے فریاد مانگی جارہی ہے اور امداد کے لیے اعلان کیا جارہا ہے تاکہ حمایتی جو ہیں وہ فوراً جائیں اور دشمن کا مقابلہ کریں اور اس کو دوڑا دیں۔بعض نے کہا ہے کہ لڑنے والوں کا قاعدہ ہو تا تھا کہ رات ہوتے ہی جنگ بند کر دیتے تھے۔اپنے ٹھکانوں پر چلے جاتے تھے۔صباحاہ کے متعلق دوسری روایت یہ بھی ہے۔اور پھر صباحاہ کہہ کر دوسرے روز لڑنے والوں کو آگاہ کیا جاتا تھا کہ صبح ہو گئی ہے اب جنگ کے لیے پھر تیار ہو جاؤ۔لغات الحدیث میں یہ وضاحت لکھی گئی ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ پھر میں ان لوگوں کے پیچھے تلاش کرتا ہوا اور انہیں تیر مار تا ہو انکلا اور میں رجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا اور میں کہہ رہا تھا کہ : أَنَا ابْنُ الْأَنْوَع وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّطَّعِ کہ میں آگوع کا بیٹا ہوں اور یہ دن کمینوں کی تباہی کا دن ہے۔پس میں ان میں سے جس شخص سے بھی ملتا تو اس کے کجاوے میں تیر مارتا یہاں تک کہ تیر کا پھل نکل کر اس کے کندھے تک جا پہنچتا۔میں کہتا یہ لو، انا ابْنُ الْآنُوعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ التَّضْعِ کہ میں انوع کا بیٹا ہوں اور یہ دن کمینوں کی تباہی کا دن ہے۔کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں ان کو تیر مار تا رہا اور انہیں زخمی کر تا رہا اور جب میری طرف کوئی گھڑ سوار آتا تو میں کسی درخت کی طرف آتا اور اس کے نیچے بیٹھ جاتا یعنی درخت کے پیچھے چھپ جاتا اور میں اسے تیر