اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 333

اصحاب بدر جلد 5 333 فرمایا کیوں نہیں۔مومن بندہ جب نماز پڑھ لے اور بیٹھ جائے اور صرف نماز ہی اسے روکے ہوئے ہو تو وہ نماز میں ہی ہے۔789 نماز کے بعد پھر بھی اگر ذکر الہی کر رہا ہے تو وہ نماز کی حالت ہی ہے اور دعا کی کیفیت ہی اس میں پیدا ہوتی ہے۔پھر ایک اور روایت حضرت ابو ہریرہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی الی ایم نے فرمایا کہ جمعے کے دن ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے اور وہ عصر کے بعد کی گھڑی ہے۔190 یہاں جمعے کا دن ہے لیکن عصر کے بعد کی روایت مسند احمد بن حنبل کی آتی ہے۔پھر ایک روایت میں ذکر ہے کہ حضرت ابو سلمہ نے اس گھڑی کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ آخِرُ ساعات النهار یعنی یہ گھڑی دن کی آخری گھڑیوں میں سے ہے۔791 اس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے ایک جگہ تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ جمعہ اور رمضان کو آپس میں ایک مشابہت حاصل ہے اور وہ یہ کہ جمعہ بھی قبولیت دعا کا دن ہے اور رمضان بھی قبولیتِ دعا کا مہینہ ہے۔جمعے کے متعلق رسول کریم صلی ا یکم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز کے لیے مسجد میں آجائے اور خاموش بیٹھ کر ذکر الہی میں لگا ر ہے ، امام کا انتظار کرے اور بعد میں اطمینان کے ساتھ خطبہ سنے اور نماز باجماعت میں شامل ہو تو اس کے لیے خاص طور پر خدا تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں اور پھر ایک گھڑی جمعے کے دن ایسی بھی آتی ہے کہ جس میں انسان جو دعا بھی کرے قبول ہو جاتی ہے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی علی یکم نے جمعے کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: اس میں ایک گھڑی ہے جو مسلمان بندہ اس گھڑی کو ایسی حالت میں پائے گا کہ وہ اس میں کھٹر انماز پڑھ رہا ہو گا تو وہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگے گا وہ اس کو ضرور دے گا اور آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ گھڑی تھوڑی سی ہے۔یہ بخاری کی حدیث ہے جس کا پہلے ذکر تھا۔یہ بھی ابو ہریرہ سے روایت ہے۔آپنے لکھتے ہیں کہ قانونِ الہی کے ماتحت اس حدیث کی ایک تعبیر تو ضرور کرنی پڑے گی کہ وہی دعائیں قبول ہوتی ہیں جو سنت اللہ اور قانونِ الہی کے مطابق ہوں۔غلط قسم کی دعائیں تو بہر حال قبول نہیں ہوں گی۔دعائیں وہی قبول ہوں گی جو اللہ کی سنت کے مطابق ہیں۔جو جائز دعائیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہیں لیکن جہاں یہ بہت بڑی نعمت ہے وہاں یہ آسان امر بھی نہیں ہے۔جمعے کا وقت قریباً دوسری اذان یا اس سے کچھ دیر پہلے سے شروع ہو کر نماز کے بعد سلام پھیر نے تک ہوتا ہے۔اگر یہ دونوں وقت ملا لیے جائیں اور خطبہ جمعہ چھوٹا بھی ہو تو یہ وقت بھی آدھ گھنٹہ ہو جاتا ہے اور اگر خطبہ لمبا ہو جائے تو یہ وقت گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بھی ہو سکتا ہے۔اس ایک گھنٹے یا ڈیڑھ گھنٹے میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ جب انسان کوئی دعا کرے تو وہ قبول ہو جاتی ہے لیکن اس توے منٹ کے عرصے میں انسان کو یہ علم نہیں ہو تا کہ آیا پہلا منٹ قبولیت دعا کا ہے، دوسرامنٹ قبولیت دعا کا ہے یا تیسرا