اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 322 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 322

اصحاب بدر جلد 5 322 ہے۔ان میں حضرت عویم بن ساعدہ بھی شامل تھے۔طبقات الکبری کے مطابق ہجرت مدینہ کے موقع پر رسول اللہ صلی للی نیلم نے حضرت عویم بن ساعدہ سے حضرت عمرؓ کی اور ایک دوسری روایت کے عظم مطابق حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی مواخات قائم فرمائی تھی۔اہل جنت میں سے۔۔۔حضرت عبد اللہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی العلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ عويم بن ساعدہ اللہ کے بندوں میں سے کیا ہی اچھا بندہ ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔ایک روایت کے مطابق جب یہ آیت نازل ہوئی کہ فِيْهِ رِجَالُ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ المُظهِرِينَ (ات : 108) تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ عویم بن ساعدہ کیا ہی اچھا بندہ ہے۔وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے۔اس آیت فِيْهِ رِجَالُ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَرُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهرین کا ترجمہ یہ ہے کہ اس میں آنے والے ایسے لوگ بھی ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ بالکل پاک ہو جائیں اور اللہ کامل پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو 774 پسند کرتا ہے۔تمام غزوات میں شامل رض رض حضرت غويم بن ساعدہ غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی الی یم کے ساتھ شریک ہوئے۔عاصم بن سوید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عویم بن ساعدہ کی بیٹی عبیدہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب جب حضرت عویم بن ساعدہ " کی قبر پر کھڑے تھے تو انہوں نے فرمایا دنیا میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس صاحب قبر سے بہتر ہے۔رسول اللہ صلی ال نیلم کے لیے جو بھی جھنڈا گاڑا گیا عویم اس کے سائے تلے ہوتے تھے۔775 ایک روایت ایک روایت میں آتا ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں حارث کے باپ سوید نے حضرت مُجَنَّار کے باپ زیاد کو قتل کر دیا۔اس کے بعد ایک دن مقتول کے بیٹے حضرت مُجنَّر نے سوید پر قابو پالیا اور انہوں نے اپنے باپ کے قاتل کو مار ڈالا۔یہ دونوں واقعات اسلام سے پہلے کے ہیں اور یہی واقعہ جنگ بعاث جو اوس اور خزرج کے درمیان جنگ تھی اس کا سبب بنا تھا۔اس کے بعد جب رسول اللہ صلی علی نام مدینہ تشریف لے آئے تو دونوں مقتولوں کے بیٹوں نے ، یعنی حارث بن سوید اور حضرت مجدد بن زیاد ، اسلام قبول کر لیا، مسلمان ہو گئے ، اور دونوں ہی غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔اس روایت کی تصدیق کہاں تک ہے ؟ بہر حال یہ روایت ہے کہ اسلام لانے کے بعد بھی حارث بن سوید موقع کی تلاش میں رہا کرتے تھے کہ اپنے والد کے بدلے میں حضرت مجند کو قتل کریں لیکن اسے ایسا موقع نہ میسر آسکا۔غزوۂ احد