اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 17

اصحاب بدر جلد 5 17 موجود تھے۔یہ ان دس اشخاص میں سے ہیں جن کو رسول اللہ صلی لی ایم نے ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی۔ان آٹھ لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور ان پانچ لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت ابو بکر کے ذریعہ سے اسلام قبول کیا تھا۔یہ حضرت عمر کی قائم کردہ شوری کمیٹی کے چھ ممبران میں سے ایک تھے۔یہ وہ احباب تھے جن سے رسول اللہ صلی غین کی وفات کے وقت راضی تھے۔قبول اسلام کا واقعہ 58 یزید بن رومان روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عثمانؓ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ دونوں حضرت زبیر بن عوام کے پیچھے نکلے اور رسول اللہ صلی علی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی ہی ہم نے ان دونوں کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کیا اور ان دونوں کو قرآن پڑھ کر سنایا اور انہیں اسلام کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا اور ان دونوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے شرف کا وعدہ کیا۔اس پر آپ دونوں یعنی حضرت عثمانؓ اور حضرت طلحہ ایمان لے آئے اور آپ صلی یکم کی تصدیق کی۔پھر حضرت عثمان نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں حال ہی میں ملک شام سے واپس آیا ہوں جب واپسی پر معان، یہ بھی ایک جگہ کا نام ہے جو موتہ سے پہلے واقع ہے۔غزوہ موتہ کے موقع پر اس جگہ پہنچ کر مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ رومیوں کا دولاکھ کا لشکر مسلمانوں کے لیے تیار ہے تو صحابہ یہاں دو دن ٹھہرے رہے۔بہر حال یہ کہتے ہیں کہ میں جب واپسی پر معان اور زرقاء ، یہ بھی مقام معان کے ساتھ واقع ہے، کے درمیان پہنچا اور ہمارا وہاں پڑاؤ تھا۔ہم سوئے ہوئے تھے کہ ایک منادی کرنے والے نے یہ اعلان کیا کہ اے سونے والو! جاگو کہ احمد کے میں ظاہر ہو چکا ہے۔پھر ہم وہاں سے واپس پہنچے تو آپ کے بارے میں سنا۔59 ملک شام کے ایک راہب کا کہنا کہ احمد علی یہ ظاہر ہو گیا ہے حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں بصری (جو ملک شام کا ایک عظیم شہر ہے۔آنحضرت صلی یم اپنے چا کے ہمراہ تجارتی سفر کے دوران اس شہر میں قیام فرما ہوئے تھے تو کہتے ہیں کہ میں بھری) کے بازار میں موجود تھا کہ ایک راہب اپنے صَوْمَعَه یعنی یہودیوں کی عبادت گاہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ قافلے والوں سے پوچھو کہ ان میں کوئی شخص اہل حرم میں سے بھی ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! میں ہوں۔اس نے پوچھا کیا احمد ظاہر ہو گیا ہے ؟ تو حضرت طلحہ نے کہا کہ کون احمد ؟ اس نے کہا عبد اللہ بن عبد المطلب کا بیٹا۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں وہ ظاہر ہو گا اور وہ آخری نبی ہو گا۔ان کے ظاہر ہونے کی جگہ حرم ہے اور ان کی ہجرت گاہ کھجور کے باغ اور پتھریلی اور شور اور کلر والی زمین کی طرف ہو گی۔تم انہیں چھوڑ نہ دینا۔حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ اس نے جو کچھ کہا وہ میرے دل میں بیٹھ گیا۔میں تیزی کے ساتھ روانہ ہوا اور مکے آگیا۔دریافت کیا کہ کوئی نئی بات ہوئی ہے۔لوگوں نے کہا ہاں محمد بن عبد اللہ امین، مکہ