اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 307
اصحاب بدر جلد 5 307 پکارا کہ اور کون مقابلہ کرنا چاہتا ہے ؟ میں ان کی طرف نکلا۔یعنی کہتا ہے غلام اور ہم دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار چلائی۔ان کا ہاتھ کمزور ہو چکا تھا۔میں نے ان پر خوب زور سے دوسر اوار کیا جس سے وہ گر پڑے۔پھر میں نے ان پر تلوار سے ایسی ضرب لگائی کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے۔راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمار کو شہید کیا گیا تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے جو حضرت عمار بن یاسر کی شہادت کو غیر معمولی خیال نہیں کرتا اور اسے اس سے رنج نہیں وہ ضرور شخص 720 غیر ہدایت یافتہ ہے۔عمار پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو جس دن وہ اسلام لائے اور اللہ عمار پر رحم کرے جب چار اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تھا تو یہ چوتھے ہوتے تھے اور پانچ کے ذکر میں یہ پانچویں ہوتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدیم اصحاب میں سے تھے۔کسی ایک یا دو کو بھی اس میں شک نہ تھا کہ عمار کے لیے بہت سے موقعوں پر جنت واجب ہوئی۔پس عمار کو جنت مبارک ہو اور ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ عمار حق کے ساتھ اور حق عمار کے ساتھ ہے۔عمار جہاں کہیں بھی جائیں گے حق کے ساتھ ہی جائیں گے اور عمار کا قاتل آگ میں ہے۔سعید بن عبد الرحمن اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بجنبی ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔تو حضرت عمار بن یاسر نے حضرت عمر بن خطاب سے کہا۔کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم یعنی میں اور آپ ایک سفر میں تھے۔آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں تو مٹی میں جانوروں کی طرح لوٹا اور نماز پڑھ لی۔گویا پانی نہ ہونے کی وجہ سے تمیم کیا۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو صرف اس طرح کافی تھا اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے۔پھر ان پر پھونکا اور اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔721 ابووائل کہتے ہیں کہ حضرت عمار نے ہمیں خطبہ دیا اور مختصر دیا اور بلیغ کلام کیا۔جب وہ منبر سے نیچے اترے تو ہم نے کہا اے ابو يقظان ! آپ نے بہت بلیغ کلام کیا ہے لیکن مختصر کیا ہے۔آپ نے اسے لمبا کیوں نہ کیا تو انہوں نے کہا کہ 722 میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کی لیبی نماز اور مختصر خطبہ اس کی عقلمندی کی نشانی ہے۔پس نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر کرو اور یقینا بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔حسّان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی داڑھی میں خلال کیا۔یعنی انگلیاں داڑھی پہ پھیریں۔اُن سے کہا گیا یا راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں داڑھی کا خلال کیوں نہ کروں جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔723