اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 16
اصحاب بدر جلد 5 16 14 ہجری میں حضرت عمر کے دورِ خلافت میں ہوئی۔ان کا ایک بھائی عامر بن حضر می بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا اور دوسرا بھائی عمرو بن حضر می مشرکوں میں سے پہلا شخص تھا جس کو ایک مسلمان نے قتل کیا اور اس کا مال پہلا تھا جو بطور خمس کے اسلام میں آیا۔55 ساتویں پشت میں حضرت طلحہ کا نسب نامہ مرہ بن کعب پر جا کر آنحضرت صلی علیم سے مل جاتا ہے اور چوتھی پشت میں حضرت ابو بکر کے ساتھ۔ان کے والد عبید اللہ نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا لیکن والدہ نے لمبی زندگی پائی اور آنحضرت صلی علی کلم پر ایمان لا کر صحابیہ ہونے کا شرف پایا۔ہجرت سے قبل یہ اسلام لے آئی تھیں۔56 جنگ بدر میں شامل نہیں ہوئے لیکن مال غنیمت میں سے حصہ دیا گیا حضرت طلحہ بن عبید اللہ غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے مگر رسول اللہ صلی ا لیلی نے انہیں مال غنیمت میں سے حصہ دیا تھا۔ان کی جنگ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی الیکم نے قریش کے قافلے کی شام سے روانگی کا اندازہ فرمایا تو آپ کی یہ کلم نے اپنی روانگی سے دس روز پہلے حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت سعید بن زید کو قافلے کی خبر رسانی کے لیے بھیجا۔دونوں روانہ ہو کر حوراء پہنچے تو وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ قافلہ ان کے پاس سے گزرا۔حوراء بحیرہ احمر پر واقع ایک پڑاؤ ہے جہاں سے حجاز اور شام کے درمیان چلنے والے قافلے گزرتے تھے۔بہر حال رسول اللہ صلی المی کم کو حضرت طلحہ اور حضرت سعید کے واپس آنے سے پہلے ہی یہ خبر معلوم ہو گئی۔آپ نے اپنے صحابہ کو بلایا اور قریش کے قافلے کے قصد سے روانہ ہوئے مگر قافلہ ایک دوسرے راستے یعنی ساحل کے راستے سے تیزی سے نکل گیا۔اس کا پہلے بھی ایک جگہ ذکر ہو چکا ہے۔اور قافلہ والے تلاش کرنے والوں سے بچنے کے لیے دن رات چلتے رہے۔یہ قافلہ کافروں کا، کتے والوں کا تھا۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت سعید بن زید مدینے کے ارادے سے روانہ ہوئے تاکہ رسول اللہ صلی علیکم کو قافلے کی خبر دیں۔ان دونوں کو آپ کی غزوہ بدر کے لیے روانگی کا علم نہیں تھا۔وہ مدینہ اس دن پہنچے جس دن رسول اللہ صلی علیم نے بدر میں قریش کے لشکر سے جنگ کی۔وہ دونوں رسول اللہ صلی ال یکم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے مدینے سے روانہ ہوئے اور آپ کی بدر سے واپسی پر تربان میں ملے۔تربان بھی مدینے سے انیس میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے جس میں کثرت سے میٹھے پانی کے کنویں ہیں۔غزوہ بدر کے لیے جاتے ہوئے رسول اللہ صلی علیم نے یہاں قیام فرمایا تھا۔حضرت طلحہ اور حضرت سعید جنگ میں شامل نہ ہوئے تھے مگر رسول اللہ صلی للی ایم نے بدر کے مال غنیمت میں سے ان کو حصہ عطا فرمایا جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے۔پس وہ دونوں بدر میں شاملین ہی قرار دیے گئے۔57 عشرہ مبشرہ میں سے ایک حضرت طلحہ غزوہ احد اور باقی دیگر غزوات میں شریک ہوئے۔صلح حدیبیہ کے موقعے پر بھی