اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 293
293 اصحاب بدر جلد 5 تھی) میرے ہمراہ حضرت عمار بن یاسر بھی تھے۔اس مہم کے دوران ہم ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جن میں ایک گھرانے نے اسلام کا ذکر کیا۔حضرت عمار نے کہا یہ لوگ توحید کے ماننے والے ہیں۔لیکن میں نے ان کی بات کی جانب کوئی توجہ نہ دی اور ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا۔حضرت عمار مجھے ڈراتے رہے کہ میں رسول اللہ صلی علیکم سے ملاقات میں یہ بات عرض کروں گا۔پھر حضرت عمار رسول اللہ صلی الی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات بتائی۔پھر جب حضرت عمار نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی الله علم ان کی مدد نہیں کر رہے یعنی خاموش تھے تو اس حالت میں واپس لوٹ گئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔حضرت خالد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یم نے مجھے بلوا کر فرمایا کہ اے خالد ! عمار کو برابھلا مت کہو کیونکہ جو عمار کو برا بھلا کہتا ہے اللہ اس کو برا بھلا کہنے کا بدلہ دیتا ہے اور جو عمار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض رکھتا ہے اور جو عمار کو بیوقوف کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بیوقوف کہتا ہے۔673 حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی علیم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت عمار بن یاسر نے 675 آنے کی اجازت مانگی۔نبی صلی الی یکم نے اجازت دی اور فرمایا پاک اور پاکیزہ شخص خوش آمدید۔674 یہ اعزاز تھا جو آنحضرت صلی ا م نے آپ کو بخشا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا کہ عمار کو جب بھی دو باتوں میں سے کسی ایک کو کرنے کا اختیار دیا جاتا تو اسی بات کو اختیار کرتا ہے جس میں رشد اور ہدایت زیادہ ہو۔15 حضرت عمر و بن بیشتر خینیل بیان کرتے ہیں کہ رسل اللہ صلی علیم نے فرمایا عمار بن یاسر کے رگ وپا میں ایمان سرایت کئے ہوئے ہے۔676 یعنی مکمل طور پر ایمان میں ڈوبے ہوئے ہیں۔حضرت عمار بن یاسر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہیں اللہ تعالیٰ نے شیطان سے پناہ دی ہوئی ہے۔ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میں شام میں آیا۔لوگوں نے کہا حضرت ابو در دائر کہتے تھے کہ کیا تم میں سے وہ شخص تھا جس کو اللہ نے شیطان سے بچائے رکھا جس طرح اس کے نبی صلی ا یکم نے اپنی زبان سے فرمایا ہے یعنی حضرت عمار کے بارے میں۔حاطب بن بلتعہ کا خفیہ خط اور۔۔۔۔۔۔677 آنحضرت صلی اللہ ہم نے جب مکہ پر چڑھائی کرنے کی تیاری فرمائی تو اس مہم کو پوشیدہ رکھا اور باوجود اس کے کہ صحابہ اس مہم کی تیاری کر رہے تھے لیکن یہ عام نہیں تھا کہ مکہ پر چڑھائی کی جارہی ہے۔اس موقع پر ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اپنی سادگی اور نادانی میں مکہ سے آئی ہوئی ایک عورت کے ہاتھ ایک خفیہ خط مکہ روانہ کر دیا جس میں مکہ پر حملہ کرنے کی ساری تیاریوں کا ذکر کر دیا۔وہ عورت خط لے کر چلی گئی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ ہم کو اس کی خبر دے دی۔چنانچہ آپ صلی ایم نے حضرت علی مودو تین افراد کے ساتھ جن میں حضرت عمار بن یاسر بھی شامل تھے اس عورت کا پیچھا کرنے اور وہ خط لینے کے