اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 269 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 269

اصحاب بدر جلد 5 269 وَأَوْرَثَ الْقَلْبَ حُزُنًالًا انْقِطَاعَ لَهُ حَتَّى الْمَمَاتِ فَمَا تَرْقُىٰ لَهُ شُوْنٍ ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اے آنکھ ! عثمان کے سانحے پر تو نہ رکنے والے آنسو بہا۔اس شخص کے سانحے پر جو اپنے خالق کی رضامندی میں شب بسر کرتا تھا۔اس کے لیے خوشخبری ہو کہ ایک فقید المثال شخص مدفون ہو چکا ہے۔بقیع اور غرقد اپنے اس مکین سے پاکیزہ ہو گیا او اس کی زمین آپ کی تدفین کے بعد روشن ہو گئی۔آپ کی وفات سے دل کو ایسا صدمہ پہنچا ہے جو موت تک کبھی ختم نہ ہونے والا ہے اور میری یہ حالت نہ بدلنے والی ہے۔609 یہ ان کی اہلیہ نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔میزبان صحابیہ کا نیک جذبات کا اظہار اور آنحضرت صلی الم کی رہنما اصلاح حضرت ام علاء جو انصاری عورتوں میں سے ایک خاتون تھیں۔نبی کریم صلی ا کم سے بیعت کر چکی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ جب انصار نے مہاجرین کے رہنے کے لیے قرعے ڈالے تو حضرت عثمان بن مطعون کا قرعہ سکونت یعنی ٹھہرنے کی جگہ ہمارے نام نکلا کہ ہم اپنے گھر ٹھہرائیں۔حضرت ام علاء کہتی تھیں کہ حضرت عثمان بن مظعون ہمارے پاس رہے۔وہ بیمار ہوئے تو ہم نے ان کی خدمت کی اور جب وہ فوت ہو گئے اور ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں ہی کفنایا۔نبی صلی ہی کم ہمارے پاس آئے۔میں نے کہا یعنی حضرت ام علاء کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی رحمت ہو تم پر ابو سائب! یہ ان کی، حضرت عثمان بن مطعون کی کنیت تھی۔آنحضرت صلی للی کم کے سامنے انہوں نے ، حضرت اقد علاء نے یہ الفاظ دہرائے کہ اللہ کی رحمت ہو تم پر ابو سائب امیری شہادت تو تمہارے متعلق یہی ہے کہ اللہ نے تجھے ضرور عزت بخشی ہے۔یہ الفاظ انہوں نے آنحضرت صلی علیکم کے سامنے دہرائے کہ میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ نے تمہیں ضرور عزت بخشی ہے۔نبی کریم ملی ای کم نے جب یہ بات سنی تو ان سے پوچھا، کہتی ہیں آنحضرت صلی اللہ ہم نے مجھ سے پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ضرور عزت بخشی ہے۔تو کہتی ہیں میں نے کہا یار سول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔میں نہیں جانتی، مجھے یہ تو نہیں تالیکن بہر حال میرے جذبات تھے میں نے اظہار کر دیا۔تو رسول اللہ کی ٹیم نے فرمایا جہاں تک عثمان کا تعلق ہے تو وہ اب فوت ہو گئے اور میں ان کے لیے بہتری کی ہی امید رکھتا ہوں۔یہی امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو عزت بخشے گا لیکن اللہ کی قسم ! آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میں بھی نہیں جانتا کہ عثمان کے ساتھ کیا ہو گا۔دعا تو ضرور ہے لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہیں ضرور عزت بخشی ہے حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔یہ سن کر حضرت اُم علاء نے کہا بخدا اس کے بعد میں کسی کو بھی یوں پاک نہیں ٹھہراؤں گی۔اس طرح کے الفاظ نہیں دہراؤں گی کہ ضرور بخشا گیا اور مجھے اس بات نے کر دیا۔کہتی تھیں کہ میں سو گئی۔اسی غم میں میں سوگئی، ایک خاص تعلق تھا۔جذبات بھی تھے۔تو بہر حال کہتی ہیں جب میں رات کو سوئی تو مجھے خواب میں حضرت عثمان کا ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہ رہا تھا۔همگین