اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 246

اصحاب بدر جلد 5 246 آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیں گے تو پھر میں تمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوں گا۔الله چنانچہ جب وہ دونوں واپس پہنچ گئے تو آپ نے فدیہ لے کر دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن ان قیدیوں میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کے دوران آنحضرت صلیم کے اخلاق فاضلہ اور اسلامی تعلیم کی صداقت کا اس قدر گہرا اثر ہو چکا تھا کہ اس نے آزاد ہو کر بھی واپس جانے سے انکار کر دیا اور آنحضرت صلی ال نیم کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپ صلی علیکم کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا۔اسلام لے آیا اور بالآخر بئر معونہ میں شہید ہوا۔563 پس مار گولیس جو معترض ہے اس کے اعتراض کا جواب دینے کے لیے ان کا اسلام لانا اور پھر اسلام کی خاطر قربانی دینا یہی کافی ہے لیکن بہر حال ان چیزوں کو یہ لوگ نظر انداز کر جاتے ہیں۔حضرت عقبہ کی تمام غزوات میں شمولیت حضرت عتبه بن غزوان کو غزوہ بدر اور بعد کے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی ال نیم کے ہمراہ 564 شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔54 حضرت عُتبہ بن غزوان کے دو آزاد کردہ غلاموں خباب اور سعد کو بھی ان کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔5 حضرت عُتبہ بن غزوان رسول الله صلى ال علوم کے ماہر تیر اندازوں میں سے تھے۔بصرہ کی سرزمین کی طرف روانہ کرنا 565 566 حضرت عمر نے حضرت عُتبہ کو ارضِ بصرہ کی سرزمین کی طرف روانہ فرمایا تاکہ وہ ابلۂ مقام کے لوگوں سے لڑیں جو فارس سے ہیں۔روانہ کرتے ہوئے حضرت عمرؓ نے انہیں فرمایا کہ تم اور تمہارے ساتھی چلتے جاؤ یہاں تک کہ سلطنتِ عرب کی انتہا اور مملکت عجم کی ابتدا تک پہنچ جاؤ۔پس تم اللہ کی برکت اور بھلائی کے ساتھ چلو۔جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہنا اور جان لو کہ تم سخت دشمنوں کے پاس جارہے ہو۔پھر آپؐ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اور میں نے حضرت علاء بن حضر می کو لکھ دیا ہے کہ عَرفَجة بن هَر ثَمَهُ کے ذریعہ تمہاری مدد کرے کیونکہ وہ دشمن سے لڑنے میں بڑا تجربہ کار اور فن حرب سے خوب واقف ہے۔پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا پس تم اس سے مشورہ لینا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا۔جو شخص تمہاری بات مان لے اس کا اسلام قبول کرنا اور جو شخص نہ مانے اس پر جزیہ مقرر کرنا جس کو وہ خود اپنے ہاتھ سے عاجزی کے ساتھ ادا کرے اور جو اس کو بھی نہ مانے تو تلوار سے کام لینا یعنی اپنے مذہب میں رہ کر وہاں رہنا۔چاہے پھر وہ جزیہ دینے کو بھی نہ تیار ہو، مسلمان بھی نہ ہو اور لڑائی پر بھی آمادہ ہو، تو پھر آپ نے فرمایا کہ پھر تلوار سے کام لینا۔پھر تمہارا بھی کام ہے کہ تلوار سے کام لو۔عربوں میں سے جن کے