اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 235
اصحاب بدر جلد 5 235 تھی وہاں آسانی پیدا کی جائے لیکن آپ نے ان کو علیحدہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔اجازت دی بھی تو اس صورت میں کہ باجماعت پڑھنی ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ حضرت عثبان نابینا تھے۔راستے میں نالہ بہتا تھا اور بعض روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اجازت دی مگر باجماعت نماز پڑھنے کی صورت میں۔یہ فرمایا کہ باجماعت نماز پڑھو گے تو اجازت ہے۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ اگر نماز فریضہ تنہا پڑھی جاسکتی تھی تو آپ حضرت عثبان " کو معذور سمجھ کر گھر میں تنہا نماز پڑھنے کی ضرور اجازت دیتے۔552 پس ہمیشہ اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں بھی اگر فاصلے زیادہ ہیں، سواری نہیں ہے، وقت نہیں ہوتا تو جس طرح کہ کئی دفعہ کہہ چکا ہوں احمدیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے گھروں میں نماز سینٹر بنائیں اور ہمسائے اکٹھے ہو کر وہاں باجماعت نماز پڑھا کریں۔553 228 نام و نسب حضرت عقبہ بن ربیعہ حضرت عتبه بن ربیعہ ہے۔حضرت عتبہ کا تعلق کس قبیلے سے تھا اس کے بارے میں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عُتبہ بن ربیعہ قبیلہ بنولوذان کے حلیف تھے اور ان کا تعلق قبیلہ بہراء سے تھا۔بعض کے نزدیک آپ قبیلہ اوس کے حلیف تھے۔بہر حال آپ کو غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شامل ہونے کی سعادت ملی۔علامہ ابن حجر عسقلانی بیان کرتے ہیں کہ جنگ پر موک میں شامل ہونے والے امراء میں سے ایک کا نام عتبہ بن ربیعہ ملتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک یہی وہ صحابی ہیں۔554 جنگ پر موک، ایک دستے کے نگران عتبہ بن ربیعہ جنگ یرموک کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ 12 ہجری میں حضرت ابو بکر جب حج کی ادائیگی۔واپس مدینہ تشریف لائے تو آپ نے 13 ہجری کے آغاز میں مسلمانوں کی فوجوں کو ملک شام کی طرف روانہ کیا۔چنانچہ حضرت عمرو بن عاص کو فلسطین کی طرف، یزید بن ابوسفیان، حضرت ابوعبیده بن الجراح اور حضرت شرحبيل بن حَسَنَہ کو حکم دیا کہ شام کے بالائی علاقے بلقاء پر سے ہوتے ہوئے