اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 9

اصحاب بدر جلد 5 بہر حال سختیاں تو ان سب نے برداشت کی تھیں جیسا کہ میں نے کہا اور ہر ایک نے اپنے ایمان پر ثابت قدمی کا اظہار کیا لیکن بہر حال حضرت بلال کے بارے میں جو روایت ہے وہ یہی ہے کہ آپ کو بہت زیادہ ظلموں کا نشانہ بنایا گیا۔پھر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت صہیب ان مومنین میں سے تھے جنہیں کمزور سمجھا جاتا تھا اور جنہیں مکے میں اللہ کی راہ میں اذیت دی جاتی تھی۔38 تکلیفوں سے ان کو بھی بہت زیادہ گزرنا پڑا۔ایک روایت کے مطابق حضرت عمار بن یاسر کو اتنی تکلیف دی جاتی کہ انہیں معلوم نہ ہو تا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔یہی حالت حضرت صہیب ، حضرت ابو فائد، حضرت عامر بن فهيرہ " اور دیگر اصحاب کی تھی۔ان اصحاب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمُ (الحل : 111) 39 پھر تیر ارب یقیناً ان لوگوں کو جنہوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ فتنہ میں مبتلا کیے گئے پھر انہوں نے جہاد کیا اور صبر کیا تو یقیناً تیر اب اس کے بعد بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا۔لا ہے۔مدینہ ہجرت کرنے والوں میں سے سب سے آخر پر۔۔۔ایک روایت کے مطابق مدینے کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے جو سب سے آخر پر آئے وہ حضرت علیؓ اور حضرت صهيب بن سنان تھے۔یہ نصف ربیع الاول کا واقعہ ہے۔آنحضرت صلی علیہ کم تھا میں قیام پذیر تھے ابھی مدینہ کے لیے روانہ نہیں ہوئے تھے۔40 ایک نفع مند سودا جس کا قرآن نے ذکر کیا ایک روایت میں ہے کہ حضرت صہیب جب ہجرت مدینہ کے لیے نکلے تو مشرکین کے ایک گروہ نے آپے کا تعاقب کیا تو اپنی سواری سے اترے اور ترکش میں جو کچھ تھاوہ نکال لیا اور کہا اے قریش کے گروہ ! تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ماہر تیر اندازوں میں سے ہوں۔اللہ کی قسم ! تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ جتنے تیر میرے پاس ہیں وہ سب تمہیں مار نہ لوں۔پھر میں اپنی تلوار سے تمہیں ماروں گا یہاں تک کہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہ رہے۔لہذا تم لوگ جو چاہو کرو اگر میر امال چاہتے ہو تو میں تمہیں اپنے مال کے بارے میں بتا دیتا ہوں کہ میر امال کہاں ہے اور تم میر اراستہ چھوڑ دو۔ان لوگوں نے کہا ٹھیک ہے۔چنانچہ حضرت صہیب نے بتا دیا اور جب وہ ، حضرت صہیب نبی کریم صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ اس سودے نے ابو یکی کو فائدہ پہنچایا۔سودا نفع مند راوی کہتے ہیں کہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِكْ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رءوف بِالْعِبَادِ (البقر :208) 4 اور لوگوں میں سے ایسا بھی ہے جو اپنی جان اللہ کی رضا کے حصول کے لیے بیچ ڈالتا ہے اور اللہ بندوں کے حق میں بہت ہی مہربانی کرنے والا ہے۔41