اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 233

اصحاب بدر جلد 5 233 رسول اکرم علی ایم کی خدمت میں میزبانی کی دعوت جب رسول اللہ صلی علیم نے مدینہ میں نزول فرمایا تو حضرت عتبان بن مالک نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ کر آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ ان کے یہاں قیام کریں لیکن رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو کہ یہ اس وقت مامور ہے یعنی جہاں خدا کا منشاء ہو گا وہاں یہ خود بیٹھ جائے گی۔547 آنحضرت ملی ایم کا ایک ماہ کے لئے ازواج اور صحابہ سے الگ ہونا حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں اور انصار میں سے میرا ایک پڑوسی بنو أمية بن زيد، (بنو اميه بن زید بستی کا نام ہے) میں رہتے تھے۔اور یہ مدینہ کے ان گاؤں میں سے ہے جو آس پاس اونچی جگہ پر واقع تھے۔اور ہم باری باری رسول اللہ صلی علیم کے پاس جاتے تھے۔ایک دن وہ جاتا تھا اور ایک دن میں جاتا تھا۔اور جب میں جاتا تھا تو میں اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں اس کے پاس لا تا تھا اور جب وہ جاتا تھا تو وہ ایسے ہی کرتا تھا۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن گیا اور آکر میرے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا اور میرے میں پوچھا کیا وہ یہیں ہیں ؟ اس پر میں گھبرایا اور باہر نکلا تو اس نے کہا بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے۔حضرت عمر نے کہا۔یہ سن کر میں حفصہ کے پاس گیا تو دیکھتا ہوں کہ وہ رورہی ہیں۔میں نے پوچھار سول اللہ صلی علیم نے تمہیں طلاق دے دی ہے ؟ کہنے لگیں کہ میں نہیں جانتی۔پھر میں نبی صلی یکم کے پاس گیا اور میں نے کھڑے کھڑے پوچھا کیا آپ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ فرمایا نہیں۔اس پر میں نے کہا اللہ اکبر۔548 روایات کے مطابق بعض جگہ تفصیل بھی ملتی ہے۔لمبا واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک مہینے کے۔آنحضرت علی اکرم نے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا تھا اور نہ صرف بیویوں سے بلکہ صحابہ سے بھی علیحدہ ہو گئے تھے۔اس وجہ سے یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ طلاق دے دی ہے۔کسی وجہ سے ناراضکی ہے۔بہر حال جو بھی وجو ہات تھیں وہ اور تھیں لیکن یہ وجہ نہیں تھی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے بخاری کی حدیث کی شرح میں اس بات سے کہ حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا کہ ایک دن میں جاتا تھا اور ایک دن میرے دوسرے ساتھ جاتے تھے لکھا ہے کہ "اگر کسی کو علم سیکھنے کے لیے پوری فراغت نہ ملتی ہو تو وہ کسی کے ساتھ باری مقرر کر سکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر نے حضرت عتبان بن مالک انصاری کے ساتھ باری مقرر کی تھی۔صحابہ کے شوق کا اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ کام کاج چھوڑ کر تین چار میل سے آکر سارا دن اسی کام میں صرف کر دیتے۔"549 لیکن علامہ عینی بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں تحریر کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ پڑوسی حضرت