اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 197
اصحاب بدر جلد 5 197 اس کے لیے سینہ سپر ہوا ہے۔مگر اب محمدکا ارادہ اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس چلے آنے کا ہے۔سواگر تم اسے اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو تو تمہیں اس کی ہر طرح حفاظت کرنی ہو گی اور ہر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونا پڑے گا۔اگر تم اس کے لیے تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف صاف جواب دے دو کیونکہ صاف صاف بات اچھی ہوتی ہے۔بَراء بن مَغرُور جو انصار کے قبیلے کے ایک معمر اور با اثر بزرگ تھے انہوں نے کہا عباس ! ہم نے تمہاری بات سن لی ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم خود اپنی زبانِ مبارک سے کچھ فرما دیں اور جو ذمہ داری ہم پر ڈالنا چاہتے ہیں وہ بیان فرما دیں۔اس پر آنحضرت صلی الم نے قرآن شریف کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور پھر ایک مختصر سی تقریر فرمائی جس میں اسلام کی تعلیم بیان فرمائی اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے لیے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ معاملہ کرو۔جب آپ تقریر ختم کر چکے تو براء بن مغرور نے عرب کے دستور کے مطابق آ صلی علیہم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا یارسول اللہ ! ہمیں اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔ان میں سے ایک شخص کے کہنے پر کہ یہ تو ہم عہد کرتے ہیں کہ کریں گے لیکن یہ بتائیں، آنحضرت صلی علیہ کم سے پوچھا کہ جب آپ کو غلبہ ملے گا تو ہمیں چھوڑ تو نہیں جائیں گے ؟ تو آپ صلی ہیں ہم نے اس پر ہنس کر فرمایا کہ تمہارا خون میر اخون ہو گا۔تمہارے دوست میرے دوست ہوں گے۔تمہارے دشمن میرے دشمن ہوں گے۔اس پر عباس بن عبادہ انصاری نے اپنے ساتھیوں پر نظر ڈال کر کہا کہ لو گو ! کیا تم سمجھتے ہو کہ اس عہد اور پیمان کے کیا معنے ہیں ؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ اب تمہیں ہر اسود و احمر، ہر کالے گورے، سرخ سفید کے ساتھ مقابلہ کے لیے تیار ہو جانا چاہیے اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔لوگوں نے کہا ہاں ہم جانتے ہیں۔مگر یا رسول اللہ ! اس کے بدلہ میں ہمیں کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا تمہیں خدا کی جنت ملے گی جو اس کے سارے انعاموں میں سے بڑا انعام ہے۔سب نے کہا ہمیں یہ سودا منظور ہے۔یا رسول اللہ ! اپنا ہاتھ آگے کریں۔آپ صلی علیہم نے اپنا دست مبارک آگے بڑھا دیا اور یہ ستر جاں نثاروں کی جماعت ایک دفاعی معاہدہ میں آپ کے ہاتھ پر بک گئی۔اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔موسیٰ کی طرح بارہ نقیب جب بیعت ہو چکی تو آپ صلی اللہ ہم نے ان سے فرمایا کہ موسیٰ نے اپنی قوم میں سے بارہ نقیب چنے تھے جو موسیٰ کی طرف سے ان کے نگران اور محافظ تھے۔میں بھی تم میں سے بارہ نقیب مقرر کرنا چاہتا ہوں جو تمہارے نگران اور محافظ ہوں گے اور وہ میرے لیے عیسی کے حواریوں کی طرح ہوں گے اور میرے سامنے اپنی قوم کے متعلق جوابدہ ہوں گے۔پس تم مناسب لوگوں کے نام تجویز کر کے میرے سامنے