اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 185
اصحاب بدر جلد 5 185 حضرت ابو طلحہ اپنے ساتھیوں سمیت اس وقت تک حضرت عبد الرحمن بن عوف کے گھر کے دروازے پر رہے جب تک کہ حضرت عثمان کی بیعت نہ کی گئی۔حضرت سلمہ بن ابو سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عثمان کی بیعت کی۔پھر اس کے بعد حضرت علیؓ نے۔حضرت عمرؓ کے آزاد کردہ غلام عمر بن عمیرہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت علی نے حضرت عثمان کی بیعت کی۔پھر اس کے بعد سب لوگوں نے بیعت کی۔402 بخاری کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضرت عمرؓ نماز کے شروع میں ہی جب آپ نے اللہ اکبر کہا اور پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے قاتلانہ حملہ ہوا تو اس وقت زخمی حالت میں حضرت عمرؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر امامت کے لیے آگے کر دیا ، وہ قریب تھے اور اس وقت حضرت عبد الرحمن بن عوف نے مختصر نماز پڑھائی۔403 حضرت مصلح موعود حضرت عثمان کی خلافت کے انتخاب کے موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوف کا کردار بیان کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں۔پہلے دور وایتیں آئی ہیں۔ان میں سے ایک جگہ صرف یہ اختلاف ہے۔باقی تو وہی باتیں ہیں۔بہر حال حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر جب زخمی ہوئے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کا آخری وقت قریب ہے تو آپ نے چھ آدمیوں کے متعلق وصیت کی کہ وہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔وہ چھ آدمی یہ تھے۔حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن وقاص، حضرت زبیر اور حضرت طلحہ۔اس کے ساتھ ہی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو بھی آپ نے اس مشورے میں شریک کرنے کے لیے مقرر فرمایا مگر خلافت کا حقدار قرار نہ دیا اور وصیت کی کہ یہ سب لوگ تین دن میں فیصلہ کریں اور تین دن کے لیے حضرت صہیب کو امام الصلوۃ مقرر کیا اور مشورہ کی نگرانی مقداد بن اسود کے سپرد کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب کو ایک جگہ جمع کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں اور خود تلوار لے کر دروازے پر پہرہ دیتے رہیں۔پچھلی روایتوں میں حضرت طلحہ محاذ کر آرہا ہے لیکن آپ نے مختلف جگہ سے اپنا جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہ ہے کہ مقداد بن اسود کے سپر د پہرہ کیا گیا تھا جب تک انتخاب خلافت ہو رہا ہے اور فرمایا کہ جس پر کثرت رائے سے اتفاق ہو سب لوگ اس کی بیعت کریں اور اگر کوئی انکار کرے تو اسے قتل کر دو لیکن اگر دونوں طرف تین تین ہو جائیں تو عبد اللہ بن عمر ان میں سے جس کو تجویز کریں وہ خلیفہ ہو۔اگر اس فیصلے پر راضی نہ ہوں تو جس طرف حضرت عبد الرحمن بن عوف ہوں وہ خلیفہ ہو۔حضرت مصلح موعود کے مطابق حضرت طلحہ اس وقت مدینہ میں نہیں تھے۔اس لیے پانچ افراد تھے۔پانچوں اصحاب نے مشورہ کیا مگر کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوا۔آپؐ فرماتے ہیں کہ آخر پانچ افراد نے مشورہ کیا۔حضرت طلحہ کے علاوہ جو باقی پانچ افراد تھے انہوں نے مشورہ کیا۔کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔بہت لمبی بحث کے بعد حضرت عبد الرحمن