اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 183
اصحاب بدر جلد 5 183 انصار کی رائے میں بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا۔کچھ نے کہا واپس چلے جائیں اور کچھ نے کہا آگے چلیں۔حضرت عمرؓ نے انصار کو بھجوایا اور پھر فرمایا: قریش کے بوڑھے لوگوں کو بلاؤ۔قریش کے اُن بوڑھے لوگوں کو بلاؤ جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے۔ان کو بلایا گیا انہوں نے یک زبان ہو کر مشورہ دیا کہ ان لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں۔کوئی ضرورت نہیں۔وہاں وبا پھوٹی ہوئی ہے وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے اور وبائی علاقے میں لوگوں کو نہ لے کر جائیں۔حضرت عمرؓ نے ان کا مشورہ مان کے لوگوں میں واپسی کا اعلان کروا دیا۔رض کیا اللہ کی تقدیر سے فرار ممکن ہے۔۔۔۔۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے اس موقعے پر سوال کیا کیا اللہ کی تقدیر سے فرار ممکن ہے ؟ آپ اس وبا کے ڈر سے واپس جارہے ہیں تو یہ تو اللہ کی تقدیر ہے، بیماری پھیلی ہوئی ہے کیا آپ اس سے فرار ہو سکتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہ سے فرمایا کہ اے ابو عبیدہ ! کاش تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی۔ہاں ہم اللہ کی ایک تقدیر سے فرار ہوتے ہوئے اللہ ہی کی ایک دوسری تقدیر کی طرف جاتے ہیں۔پھر حضرت عمرؓ نے آگے ان کو اس کی مثال دی کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کیا ہے۔مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ان کو لے کر ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں۔ایک سرسبز ہو اور دوسرا خشک تو کیا ایسا نہیں کہ اگر تم اپنے اونٹوں کو سر سبز جگہ پر چراؤ تو وہ اللہ کی تقدیر سے ہے اور اگر تم ان کو خشک جگہ پر چر اؤ تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہے۔اب اللہ کی تقدیر نے تمہارے اوپر دو آپشن دے دیے ہیں ایک سبز چراگاہ ہے ایک جہاں بالکل خشک جگہ ہے ، بنجر ہے، اکا دکا جھاڑیاں ہیں یا تھوڑا بہت گھاس ہے۔اب تم کہہ دو کہ یہ سبزہ اپنی تقدیر سے اگا ہے اور یہ جو ہے وہ کسی اور تقدیر سے ہے۔یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی تقدیریں ہیں۔اب تم نے فیصلہ کرنا ہے۔کون سی بہتر آپشن لینی ہے۔ظاہر ہے تم سر سبز جگہ پر چراؤ گے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ان کو یہ باتیں کہیں۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ اتنے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی آگئے جو پہلے اپنی کسی بعد مصروفیت کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکے تھے۔انہوں نے عرض کی کہ میرے پاس اس مسئلے کا علم ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا آپ لوگوں سے مشورہ لے رہے ہیں میں بتاتا ہوں مجھے اس کا علم ہے۔میں نے رسول اللہ صلی علیم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی جگہ کے بارے میں سنو کہ وہاں کوئی وبا پھوٹ پڑی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر کوئی مرض کسی ایسی جگہ پر پھوٹ پڑے جہاں تم رہتے ہو تو وہاں سے فرار ہوتے ہوئے باہر مت نکلو۔جہاں وبا پھوٹ پڑی ہے وہاں جانا نہیں اور جس علاقے میں رہتے ہو وہاں وہا ہے تو پھر وہاں سے اس وقت باہر نہ نکلو اور اپنے آپ کو وہیں رکھو تا کہ وہ مرض اور وباجو ہے وہ باہر دوسرے لوگوں میں نہ پھیلے۔آج کل لاک ڈاؤن میں دنیا اس پر جو عمل کر رہی ہے جنہوں نے وقت پر کیا وہاں کافی حد تک اس کو محدود کر لیا۔بیماری کو contain کر لیا۔جہاں نہیں کر سکے اور لا پروائی کی وہاں یہ پھیلتی جارہی ہے۔