اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 161
اصحاب بدر جلد 5 161 ایک دوسری روایت میں یہ بھی الفاظ ملتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ کا والد یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول فوت ہوا تو وہ آنحضرت علی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اپنی قمیض دیں تا کہ میں اپنے والد کو اس کے ذریعے کفن دوں اور اس پر نماز جنازہ پڑھیں اور اس کے لیے استغفار کر دیں تو آنحضرت ملا لیلی یکم نے اسے اپنی قمیض عطا کی اور فرمایا کہ جب تم لوگ تجہیز و تکفین کے معاملات سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بلا لینا۔جب آنحضرت صلی علیہ کی نماز جنازہ پڑھنے لگے تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ سے منع کیا ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللی کم نے فرمایا مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں ان کے لیے استغفار کروں یا نہ کروں۔پس رسول اللہ صلی علیم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی پھر جب اللہ تعالیٰ نے ایسے افراد کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کی کلیۂ ممانعت فرما دی تو پھر آنحضرت صلی علیم نے منافقین کی نماز جنازہ پڑھانی بند کر دی۔341 یہ بھی روایت ہے کہ جب آپ پہنچے تو اس کو قبر میں رکھا جا چکا تھا۔آپ نے باہر نکلوایا۔اپنی ٹانگوں پر اس کا سر رکھا اور پھر اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور پھر دعا کی اور قمیض کرتہ اتار کے دیا۔342 ایک روایت یہ بھی ہے حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب بدر کی جنگ ہوئی تو کافروں کے قیدی لائے گئے اور عباس بھی لائے گئے ان پر کوئی کپڑا نہ تھا۔نبی کریم صلی علیہم نے ان کے لیے کر تہ تلاش کیا لوگوں نے عبد اللہ بن ابی کا کرتہ ان کے لیے ٹھیک پایا۔نبی صلی میں ہم نے وہی ان کو پہنا دیا اور اس وجہ سے نبی صلی علیم نے عبد اللہ بن ابی کے لیے اس کے مرنے کے بعد اپنا کر نہ اتار کر اسے دے دیا کہ اسے پہنایا جائے۔ابن عیینہ کہتے ہیں کہ نبی صلی علیم سے اس نے نیک سلوک کیا تھا تونبی صلی علیکم نے چاہا کہ اس سے نیک سلوک فرمائیں۔343 ایسی روایت گو کہ صحیح بخاری کے حوالے سے بھی ہے لیکن یہ اتنی authentic صحیح بھی نہیں لگتی۔آنحضرت صلی العلم رحمۃ للعالمین تھے۔صرف اسی سلوک کی وجہ سے یہ بات یا صرف یہی بات نہیں ہو سکتی۔ایک تو یہ ہے کہ بعضوں کے نزدیک اس وقت بدر کی جنگ میں یہ مسلمان بھی نہیں تھا اور اگر بالفرض قمیض اتار کے دی بھی تھی تو اس دوران میں آنحضرت صلی اسلام نے اس پر بے شمار احسانات کیے تھے۔بہر حال یہ شفقت کا سلوک تھا جو میرے خیال میں تو حضرت عبد اللہ کی وجہ سے آنحضرت صلی علی یم نے کیا تھا کہ بیٹے نے جو ہر معاملے میں اسلام کی غیرت رکھی، آنحضرت صلی لیلی کیم کی غیرت رکھی اور اپنے ایمان کو بچایا اور اپنے باپ پر سختی بھی کی تو اس لیے بچے کی دل داری کے لیے، بیٹے کی دل داری کے لیے یا اس کی خواہش کی وجہ سے آپ نے یہ قمیض اتار کے دی تھی۔حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن ابی بن سلول مر گیا تو رسول اللہ صلی الم سے درخواست کی گئی ( یہ روایت حضرت عمر نے براہ راست بھی بیان فرمائی ہے ) کہ آپ اس کی نماز جنازہ