اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 160

اصحاب بدر جلد 5 160 کر رہے ہیں۔پھر کہتی ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں اپنی اور آپ کی کوئی مثال نہیں پاتی سوائے یوسف کے باپ کی۔انہوں نے کہا تھا کہ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ۔کہ صبر کرنا ہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے اس بات میں جو تم لوگ بیان کر رہے ہو۔یہ سیورہ یوسف میں ہے۔اس کے بعد کہتی ہیں میں ایک طرف ہٹ کر اپنے بستر پر آگئی اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضرور بری کرے گا۔آنحضرت صلی کم کو بتائے گا کہ میں اس الزام سے بری ہوں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس واقعہ کے بعد، جب میں نے یہ بات کہی اس کے بعد اللہ کی قسم ! آپ ابھی بیٹھنے کی جگہ سے الگ نہیں ہوئے تھے جب آپ نے آنحضرت صلی علیم سے یہ بات کہی ہے۔تو اس وقت حضرت ابو بکر بھی تھے اور عائشہ کی والدہ بھی تھیں، دونوں تھے۔کہتی ہیں کہ آپ، نہ گھر والے بھی کوئی اور نہ اہل بیت میں سے کوئی باہر گیا تھا، سب گھر والے وہیں تھے۔عالیہ ! اللہ کا شکر بجالاؤ کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت کر دی ہے اتنے میں آپ صلی للی کم پر وحی نازل ہوئی اور سخت تکلیف آپ کو ہوا کرتی تھی جب وحی ہوتی تھی۔وہ آپ کو ہونے لگی۔جسم پسینے سے شرابور ہو جاتا تھا۔کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی العلیم سے وحی کی حالت جاتی رہی تو آپ مسکرا رہے تھے اور پہلی بات جو آپ نے فرمائی یہ تھی کہ عائشہ ! اللہ کا شکر بجالاؤ کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت کر دی ہے۔میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اٹھو رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس جاؤ۔میں نے کہا اللہ کی قسم ہر گز نہیں۔ان کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔میں ان کے پاس اٹھ کر تمہیں جاؤں گی اور اللہ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی تھی کہ اِنَّ الَّذِيْنَ جَاءُ وَ بِالْافَكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ کہ وہ لوگ جنہوں نے بہتان باندھا ہے وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے۔ان سب باتوں کے باوجود بہر حال یہ بریت ہو گئی۔آنحضرت صلی علیم نے اعلان کر دیا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرما دی بلکہ حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے خیال تھا کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی علی یم کو رو یا یا کسی اور رنگ میں بتادے گا۔یہ مجھے امید نہیں تھی کہ قرآن کریم کی آیت اس بارے میں اتر آئے گی۔340 رئیس المنافقین کے ساتھ آنحضرت علی رحمة للعالمین کا سلوک تو یہ معاملہ ختم ہوا اور یہ الزامات لگتے رہے اور مختلف حرکتیں ہوتی رہیں لیکن ان سب باتوں کے باوجود اس رئیس المنافقین کے ساتھ آنحضرت صلی الی رحمة للعالمین کا جو سلوک تھا وہ کیا تھا؟ حضرت عبد اللہ کے والد کی جو وفات ہوئی یعنی عبد اللہ بن ابی کی تو انہوں نے آنحضرت صلیالی کم کی خدمت میں اپنے والد کی نماز جنازہ کے لیے درخواست کی۔اسی طرح انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ آپ اپنی قمیض عنایت فرمائیں تا کہ وہ بطور کفن اپنے والد کے لیے استعمال کر سکے اور اس طرح شاید میرے والد تخفیف ہو سکے تو آنحضور صلی ا لم نے اسے کر تہ عنایت فرمایا۔