اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 121
121 اصحاب بدر جلد 5 باہر جس جگہ کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے۔جب نبی صلی علیہ کم خطبے سے فارغ ہوئے اور یہ خبر آپ کو پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا کہ زَادَكَ اللهُ حِرْصًا عَلَى طَوَاعِيَةِ اللهِ وَطَوَاعِيَةِ رَسُولِہ کہ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کی خواہش میں اللہ تمہیں زیادہ بڑھائے۔اسی طرح کا واقعہ کتب احادیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے بارے میں بھی ملتا ہے اور یہ واقعہ ان کے حوالے سے میں ایک خطبہ میں بیان کر چکا ہوں۔274 عبد اللہ بن مسعودؓ کے بارے میں بھی یہی روایت ہے۔وہ بھی باہر بیٹھے تھے ، جب سنا تو دروازے میں بیٹھ گئے اور پھر اسی طرح بیٹھے بیٹھے اندر آئے۔اللہ ابن رواحہ پر رحم فرمائے اسے ایسی مجالس سے محبت ہے جس پر فرشتے فخر کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن رواحہ جہاد میں سب سے پہلے گھر سے نکلتے اور سب کے بعد کوٹتے تھے۔حضرت ابو دردائم فرماتے ہیں کہ میں اُس دن سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا ذکر نہ کروں۔جب وہ سامنے سے آتے ہوئے مجھ سے ملتے تو میرے سینے پر ہاتھ رکھتے یعنی کہ ایسا تھا کہ ہر روز جب بھی وہ ملتے اور روزانہ ملتے تو تب بھی ان کی باتیں ایسی تھیں کہ ان کا ذکر ضروری ہے اور پھر آگے بیان کر رہے ہیں کہ جب بھی وہ سامنے سے آتے، مجھے ملنے کے لیے آتے یا مجھے ملتے تو عبد اللہ بن رواحہ میرے سینے پر ہاتھ رکھتے۔حضرت ابو دردا کہتے ہیں اور جب وہ جاتے ہوئے مجھے ملتے تو میرے کندھوں کے درمیان میں ہاتھ رکھتے اور مجھ سے کہتے کہ يَا عُوَ نیمز راجْلِسُ فَلَنُؤْمِن سَاعَةً کہ اے عویمر !بیٹھو تھوڑی دیر ایمان تازہ کریں۔پس ہم بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے جتنا اللہ چاہتا تھا۔پھر حضرت عبد اللہ بن رواحہ کہتے کہ اے عویمر یہ ایمان کی مجالس ہیں۔حضرت امام احمد کی کتاب کتاب الزہد میں بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ جب کسی ساتھی سے ملتے تو کہتے آؤ گھڑی بھر اپنے رب پر ایمان لانے کی یاد تازہ کر لیں۔اسی میں ہے کہ نبی کریم ملی ایم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابن رواحہ پر رحم فرمائے۔اسے ایسی مجالس سے محبت ہے جس پر فرشتے فخر کرتے ہیں۔275 آنحضرت صلی اللہ علم کا عیادت کے لئے تشریف لے جانا حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی علیم نے فرمایا۔نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کتنے ہی اچھے آدمی ہیں۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو فتح خیبر کے بعد پھلوں اور فصل و غیرہ کا اندازہ لگانے کے لیے آپ صلی الی یم نے بھیجا تھا۔ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ اتنے بیمار ہوئے کہ بے ہوش ہو گئے۔نبی کریم صلی الله علم ان کی عیادت کرنے کے لیے آئے۔فرمایا اے اللہ ! اگر اس کی مقدر گھڑی، اس کی مقررہ گھڑی کا وقت ہو گیا ہے تو اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔یعنی اگر اس کی وفات کا وقت ہے تو آسانی پیدا کر دے اور اگر اس کا وقت موعود نہیں ہوا تو اسے شفا عطا فرما۔اس دعا کے بعد حضرت عبد اللہ کے بخار میں کچھ کمی ہوئی، انہوں نے کمی محسوس کی تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ کہہ رہی تھی کہ ہائے میرا پہاڑ۔ہائے میر اسہارا۔جب میں بیمار تھا تو