اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 102

اصحاب بدر جلد 5 102 آنحضرت صلى الله ولم کا زخمی ہونا۔۔۔اور رسول کریم صلی علی کرم میدان جنگ میں تن تنہا رہ گئے۔اسی حالت میں آپ کے خود پر ایک پتھر لگا جس کی وجہ سے خود کے کیل آپ کے سر میں چھ گئے اور آپ بیہوش ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے " جو کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ پھر ایک صحابی نے وہ کیل نکالے اور ان کے دانت بھی ٹوٹ گئے۔" جو بعض شریروں نے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچانے کے لئے کھود کر ڈھانپ رکھے تھے۔" ایک گڑھا بنایا ہوا تھا اور اس پر گھاس پھوس رکھا ہوا تھا۔پتہ نہیں لگ رہا تھا یہ گڑھا ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ ہم گرے۔" اس کے بعد کچھ اور صحابہ شہید ہوئے اور ان کی لاشیں آپ کے جسم مبارک پر جاگریں اور لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ رسول کریم صلی علی کرم شہید ہو گئے ہیں۔مگر وہ صحابہ جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دئے گئے تھے کفار کے پیچھے ہٹتے ہی پھر رسول کریم صلی علیم کے گرد جمع ہو گئے اور انہوں نے آپ کو گڑھے میں سے باہر نکالا۔تھوڑی دیر کے بعد رسول کریم صلی علیم کو ہوش آگیا اور آپ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑ دئے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہو جائیں اور آپ انہیں ساتھ لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔جنگ احد میں مسلمانوں کو عارضی شکست کا چر کہ اور اس کی وجہ اسلامی لشکر کو کفار پر فتح حاصل کرنے کے بعد ایک عارضی شکست کا چر کہ اس لئے لگا کہ ان میں سے چند آدمیوں نے " اب یہ سنے والی بات ہے۔آپ اب نتیجہ نکال رہے ہیں کہ اسلامی لشکر کو کفار پر فتح حاصل کرنے کے بعد ایک عارضی شکست کا چر کہ اس لئے لگا۔اس لئے نقصان پہنچا کہ ان میں سے چند آدمیوں نے "رسول کریم صلی ال نیم کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی اور آپ کی ہدایت پر عمل کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد سے کام لینا شروع کر دیا۔اگر وہ لوگ محمد رسول اللہ صلی علی علم کے پیچھے اسی طرح چلتے جس طرح نبض حرکت قلب کے پیچھے چلتی ہے۔اگر وہ سمجھتے کہ محمد رسول اللہ صلی الم کے ایک حکم کے نتیجہ میں اگر ساری دنیا کو بھی اپنی جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں تو وہ ایک بے حقیقت شے ہیں۔اگر وہ ذاتی اجتہاد سے کام لے کر اس پہاڑی درہ کو نہ چھوڑتے جس پر رسول کریم صلی الی یکم نے انہیں اس ہدایت کے ساتھ کھڑا کیا تھا کہ خواہ ہم فتح حاصل کریں یا مارے جائیں تم نے اس مقام سے نہیں ملنا تو نہ دشمن کو دوبارہ حملہ کرنے کا موقع ملتا اور نہ محمد رسول اللہ صلی علیکم اور آپ کے صحابہ کو کوئی نقصان پہنچتا۔" آپ فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی علیکم کے احکام کی پوری اطاعت نہیں بجالاتے اور ذاتی اجتہادات کو آپ کے احکام پر مقدم سمجھتے ہیں۔" اپنی ذاتی تو جیہیں نکالتے ہیں یا خود ہی تشریحیں کرنے لگ جاتے ہیں یا حکموں کی تاویلیں کرنے لگ جاتے ہیں۔" انہیں ڈرنا چاہئے کہ اس کے نتیجہ میں کہیں اُن پر کوئی آفت نہ آجائے یاوہ کسی شدید عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں۔گویا بتایا کہ اگر تم کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارا کام یہ ہے کہ تم