اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 44
اصحاب بدر جلد 5 44 تمام غزوات میں شرکت اور 120 سال کی عمر میں وفات حضرت عاصم غزوہ احد اور غزوہ خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ شریک ہوئے۔حضرت عاصم نے 45 ہجری میں حضرت معاویہ کے دورِ حکومت میں مدینے میں وفات پائی۔اس وقت ان کی عمر 115 سال تھی۔بعض کے نزدیک انہوں نے 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔جب حضرت عاصم کی وفات کا وقت آیا تو ان کے گھر والوں نے رونا شروع کیا اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے پر نہ روؤ کیونکہ میں نے تو اپنی عمر گزار لی۔127 اور بہت لمبی عمر گزار لی۔غزوہ تبوک کے موقعہ پر مالی قربانی رسول کریم صلی ا ہم نے جب صحابہ کرام کو غزوہ تبوک کی تیاری کے لیے حکم دیا تو آپ صلی ہی ہم نے امراء کو اللہ کی راہ میں مال اور سواری مہیا کرنے کی تحریک بھی فرمائی اور اس پر مختلف لوگوں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق قربانی پیش کی۔اسی موقعے پر حضرت ابو بکر اپنے گھر کا سارا مال لے آئے جو کہ چار ہزار درہم تھے۔رسول اللہ صلی العلیم نے حضرت ابو بکر سے دریافت فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے کہ نہیں ؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کار سول چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمرؓ اپنے گھر کا آدھا مال لے کر آئے۔آنحضرت صلی ا ہم نے حضرت عمرؓ سے دریافت کیا کہ اپنے ر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ کے آئے ہو ؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ نصف چھوڑ کے آیا ہوں۔اس موقعے پر حضرت عبد الرحمن بن عوف نے ایک سو اوقیہ دیے۔ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔تو آپ صلی تعلیم نے فرمایا عثمان بن عفان اور عبد الرحمن بن عوف زمین پر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے خزانے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔اس موقعے پر عورتوں نے بھی اپنے زیورات پیش کیے۔اسی موقعے پر حضرت عاصم بن عدی، جن کا ذکر ہو رہا ہے انہوں نے ستر وسق کھجوریں پیش کیں۔ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور ایک صاع تقریباً اڑھائی سیر کا ہوتا ہے، یا اڑھائی کلو کا تو اس طرح کھجوروں کا کل وزن 262 من بنتا ہے۔128 ایک من تقریباً چالیس سیر کا پاکستان کا وزن ہے یا انتالیس کلو کا یا اڑ تیس کلو کا ہوتا ہے۔بہر حال حضرت عاصم نے بھی اس موقعے پر جو ان کے پاس کھجوریں تھیں وہ پیش کیں اور بڑی مقدار میں پیش کیں۔مسجد ضرار اور اس کو گرانے کا خدائی حکم حضرت عاصم بن عدی ان صحابہ میں سے تھے جنہیں آنحضرت علی ایم نے مسجد ضرار کرانے کا حکم دیا تھا۔اس واقعہ کی تفصیل اس طرح بیان ہوئی ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ بنو عمرو بن عوف نے مسجد قبا بنائی اور آنحضرت صلی اللہ کم کی