اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 498
اصحاب بدر جلد 5 498 شخص کی طرح مسکرائے۔میری طرف دیکھا مسکرائے لیکن اس طرح دیکھنا تھا جس طرح کہ ناراضگی ہوتی ہے۔پھر آپ صلی ٹیم نے فرمایا آگے آؤ۔میں آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔آپ نے مجھ سے پوچھا کہ کس بات نے تمہیں پیچھے رکھا ہے ؟ ہمارے ساتھ کیوں نہیں سفر کیا ؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی ؟ میں نے کہا ہاں اللہ کی قسم! میں ایسا ہوں کہ اگر آپ کے سواد نیا کے لوگوں میں سے کسی اور کے پاس بیٹھا ہو تا تو میں سمجھتا ہوں کہ میں ضرور ہی اس کی ناراضگی سے عذر کر کے بیچ جاتا کیونکہ مجھے قوت بیان دی گئی ہے۔مجھے بڑے اچھے بہانے بنانے آتے ہیں میں بچ سکتا تھا مگر اللہ کی قسم !میں جانتا تھا کہ اگر میں نے آج آپ سے کوئی ایسی جھوٹی بات بیان کی جس سے آپ مجھ پر راضی ہو گئے تو عنقریب اللہ آپ کو مجھ پر ناراض کر دے گا۔میں بیان کر کے ناراضگی سے بچ تو سکتا ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کسی نہ کسی وقت ظاہر ہو جائے گی اور وہ آپ کو بھی پتا لگ جائے گی۔پھر کہتے ہیں کہ اگر میں آپ سے سچی بات بیان کروں گا جس کی وجہ سے آپ مجھ پر ناراض ہوں تو میں اس میں اللہ کے عفو کی امید رکھتا ہوں۔آپ سچی بات سے ناراض ہو جائیں گے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے عفو کا سلوک کرے گا۔پھر حضرت کعب نے عرض کیا کہ نہیں اللہ کی قسم ! میرے لیے کوئی عذر نہیں تھا کہ عذر بیان کروں۔اللہ کی قسم ! کوئی عذر نہیں تھا میں کبھی بھی ایسا تنومند اور آسودہ حال نہیں ہو ا جتنا کہ اس وقت تھا جب آپ سے پیچھے رہ گیا۔رسول اللہ صلی علیکم نے یہ سن کر فرمایا: اس نے بیچ بیان کیا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ اٹھو یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے۔یہاں میرے سامنے سے چلے جاؤ۔میں اٹھ کر چلا گیا اور بنو سلمہ میں سے بعض لوگ بھی اٹھ کر میرے پیچھے ہو لیے۔انہوں نے مجھے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہمیں علم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی قصور کیا ہو اور تم یہ بھی نہ کر سکے کہ رسول اللہ صل علیم کے پاس کوئی بہانہ ہی بناتے جبکہ ان کے پیچھے رہنے والوں نے، بہت سارے لوگوں نے جو آسٹی لوگ تھے، آپ کے سامنے بہانے بنائے تھے۔جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔رسول اللہ صلی العلیم کا تمہارے لیے استغفار کر دینا ہی تمہارے اس گناہ بخشا نے کے لیے کافی تھا۔کعب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! یہ لوگ مجھے ملامت ہی کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلا دوں۔دوبارہ آنحضرت صلی اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس جاؤں اور عرض کروں کہ میں نے جو پہلے بات کی تھی وہ غلط تھی اور کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دوں لیکن کہتے ہیں پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا، جو مجھے کہہ رہے تھے کہ تم نے غلط کیا کہ سچی بات بتادی، واپس جاؤ۔کہتے ہیں میں نے ان سے، ان لوگوں سے پوچھا جو مجھے بھڑ کانے والے تھے یا غلط کام کی طرف ابھارنے والے تھے کہ کیا میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے جس نے آپ صلی علی کرم سے اس قسم کا اقرار کیا ہو جیسی باتیں میں نے کی ہیں، سچ سچ بیان کر دیا ہو۔انہوں نے کہا کہ ہاں۔دو اور شخص ہیں انہوں نے بھی وہی کہا ہے جو تم نے کہا ہے اور ان کو بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔میں نے کہا وہ کون ہیں۔