اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 496

اصحاب بدر جلد 5 496 بہر حال کہتے ہیں جب ہم نے عقبہ میں اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد و پیمان کیا تھا اور میں نہیں چاہتا کہ اس رات کے عوض مجھے بدر میں شریک ہونے کا موقع ملتا اگر چہ بدر لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے اور میری یہ حالت تھی کہ میں کبھی بھی اتنا تنو مند اور خوش حال نہیں تھا جتنا کہ اس وقت جبکہ میں آپ سے اس غزوہ میں پیچھے رہ گیا تھا یعنی تبوک کے۔کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اس سے پہلے کبھی بھی میرے پاس سواری کے اونٹ اکٹھے نہیں ہوئے تھے اور اس غزوے کے اثنامیں سواری کے دو اونٹ اکٹھے کر لیے تھے اور رسول اللہ صلی علیہ کام جس غزوے کا بھی ارادہ کرتے تھے تو آپ اس کو مخفی رکھ کر کسی اور طرف جانے کا اظہار کرتے تھے۔عمومی طور پر یہ ہو تا تھا کہ جو جنگی strategy ہے اس کی وجہ سے آنحضرت صلی یکم ایک تو مخفی رکھا کرتے تھے دوسرے سفر بھی لمبا کیا کرتے تھے یار استہ بدلتے تھے۔بہر حال کہتے ہیں کہ جب وہ غزوہ ہوا تو نبی صلی ام اس غزوے میں سخت گرمی کے وقت نکلے یعنی غزوہ تبوک میں اور آپ کے سامنے دور دراز کا سفر اور غیر آباد بیابان اور جو دشمن تھا بہت بڑی تعداد میں تھا۔آپ نے مسلمانوں کو ان کی حالت کھول کر بیان کر دی تاکہ وہ اپنے حملے کے لیے جو تیاری کرنے کا حق ہے تیاری کریں۔اس غزوے میں آنحضرت صلی ہیں ہم نے کوئی چیز مخفی نہیں رکھی بلکہ بتادیا کہ فلاں جگہ ہم نے جاتا ہے اور فلاں دشمن ہے اس لیے تیاری اچھی طرح کر لو۔کہتے ہیں کہ آپ صلی ا ہم نے ان کو اس طرف کا بھی بتادیا جس طرف آپ جانا چاہتے تھے اور مسلمان رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ بکثرت تھے۔حضرت کعب کہتے تھے اور کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا جو غیر حاضر رہنا چاہتا ہو مگر وہ خیال کرتا کہ اس کا غیر حاضر رہنا آپ سے پوشیدہ رہے گا جب تک کہ اس سے متعلق اللہ کی وحی نازل نہ ہو اور رسول اللہ صلی الیم نے یہ غزوہ اس وقت کیا کہ جب پھل پک چکے تھے اور سائے اچھے لگتے تھے یعنی موسم بھی گرم تھا۔آپ صلی الم کے ساتھ مسلمانوں نے بھی سفر کی تیاری شروع کر دی۔کہتے ہیں کہ میں صبح کو جاتا تا میں بھی ان کے ساتھ سامان کی تیاری کروں، سفر کی تیاری کروں۔میں واپس لوٹنا اور کچھ بھی نہ کیا ہوتا۔لوٹتا ارادے سے تو نکلتا تھا لیکن شام کو واپس آجاتا اور تیاری نہیں ہوتی تھی۔میں اپنے دل میں کہتا کہ میں تیاری کر سکتا ہوں۔سامان میرے پاس موجود ہے۔بہر حال کہتے ہیں یہ خیال مجھے لیت و لعل میں رکھتا رہا یہاں تک کہ لوگوں نے تیاری کرلی اور رسول اللہ صلی علیکم ایک صبح روانہ ہو گئے اور مسلمان بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوئے اور میں نے اپنے سفر کی تیاری میں سے کچھ بھی نہ کیا تھا۔میں نے سوچا کہ آپ کے جانے کے ایک دن یا دو دن بعد تیاری کرلوں گا اور پھر ان سے جاملوں گا کیونکہ سفر کی سواری تو میرے پاس موجود تھی اور میں آسانی سے کر سکتا تھا۔بہر حال کہتے ہیں ان کے چلے جانے کے بعد دوسری صبح گیا کہ سامان تیار کر لوں مگر پھر واپس آگیا اور کچھ بھی نہ کیا۔پھر میں اگلے دن یعنی تیسرے دن گیا اور واپس لوٹ آیا اور کچھ بھی فیصلہ نہ کر سکا اور یہی حال رہا یہاں تک کہ لشکر تیزی سے سفر کرتے ہوئے بہت آگے نکل گیا۔میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ کوچ کروں اور ان کو پالوں اور کاش کہ میں ایسا کرتا مگر مجھے اس کی طاقت نصیب نہ ہوئی، میں کر نہیں سکا۔