اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 35
35 175 اصحاب بدر جلد 5 نام و کنیت حضرت طلیب بن عمیر ان کی کنیت ابو عیدی تھی۔ان کی والدہ کا نام آڑوی تھا جو عبد المطلب کی بیٹی تھیں، جو آنحضور صلی الیم کی پھوپھی تھیں۔آپ کی کنیت ابو عدی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا اور آپے ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھے۔قبول اسلام اور والدہ کو بھی قبول اسلام کی کامیاب دعوت آپ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب رسول اللہ صلی این نمودار ار تم میں تھے۔100 م الله ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت حلیب بن میر دارِ ارقم میں ایمان لائے تھے۔پھر آپ وہاں سے نکل کر اپنی والدہ کے پاس گئے اور نہیں کہا کہ میں نے محمد صلی علیکم کی پیروی اختیار کرلی ہے اور اللہ رب العالمین پر ایمان لے آیا ہوں۔آپ کی والدہ نے کہا کہ تمہاری مدد اور تعاون کے زیادہ حقدار تمہارے ماموں کے بیٹے ہی ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔انہوں نے تائید کی۔بڑا اچھا کیا تم ایمان لے آئے۔پھر کہنے لگیں کہ خدا کی قسم ! اگر ہم عورتوں میں بھی مردوں جیسی طاقت ہوتی تو ہم بھی ان کی پیروی ضرور کرتیں اور ان کی حمایت اور دفاع کرتیں۔حضرت طالیب نے اپنی والدہ سے کہا پھر آپ اسلام قبول کر کے نبی صلی ایم کی اتباع کیوں نہیں کر لیتیں ؟ اب یہ جذبات ہیں آپ کے تو انہوں نے کہا کہ آپ کے بھائی حمزہ بھی تو مسلمان ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی بہنوں کا رویہ دیکھ لوں پھر میں بھی ان میں شامل ہو جاؤں گی۔حضرت محلیب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے کہتا ہوں کہ آپ رسول اللہ صلی علیہ کم کی خدمت میں جائیں اور انہیں سلام کہیں اور ان کی تصدیق کریں اور گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدصلی اللی علم اللہ کے رسول ہیں۔اس پر آپ کی والدہ کہنے لگیں کہ میں بھی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی علیکم اللہ کے رسول ہیں۔اس کے بعد وہ اپنی زبان کے ساتھ بھی آنحضور ملی تیر نیم کا دفاع کیا کرتی تھیں اور اپنے بیٹے کو بھی آپ کی مدد اور اطاعت کا کہا کرتی تھیں۔101 اسلام میں سب سے پہلے جس نے کسی مشرک کو دین کی راہ میں زخمی کیا ان کے بارے میں آتا ہے کہ آپ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام میں سب سے پہلے کسی مشرک کو آنحضور صلی اللہ ظلم کی گستاخی کی وجہ سے زخمی کیا تھا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ عوف بن صبرة سهمی آنحضرت صلی الی یکم کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔حضرت حلیب نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھائی