اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 489

اصحاب بدر جلد 5 489 حضرت نعمان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو غنم سے تھا۔یہ قبیلہ قوقل کے نام سے مشہور تھا۔ابن ہشام کے نزدیک حضرت نعمان بن مالک نعمان قوقل کے نام سے بھی مشہور تھے اور ابن ہشام نے ان کا قبیلہ بنو دغد بھی بیان کیا ہے۔قوقل نام کی وجہ تسمیہ قوقل کیوں کہلاتے تھے پچھلی دفعہ بھی ایک خطبے میں بیان کر چکا ہوں 1139 کہ جب مدینے میں کسی سردار کے پاس کوئی شخص پناہ کا طلب گار ہوتا تو اسے یہ کہا جاتا تھا کہ اس پہاڑ پر جیسے مرضی چڑھ۔یعنی اب تو امن میں ہے ، جس طرح مرضی رہ اور تو اس حالت میں لوٹ جا کہ تو فراضی محسوس کر، کوئی تنگی نہیں اب تجھے اور کسی چیز کا خوف نہ کھا اور وہ لوگ جو پناہ دینے والے تھے وہ قواقلہ کے نام سے مشہور تھے۔تاریخ لکھنے والے ابن ہشام یہ کہتے ہیں کہ ایسے سردار جب کسی کو پناہ دیتے تو اسے ایک تیر دے کر کہتے اس تیر کو لے کر اب جہاں مرضی جا۔حضرت نعمان کے داد ا ثعلبہ بن دعد کو قوقل کہا جاتا تھا۔پناہ دینے والوں میں سے تھے۔اسی طرح خزرج کے سردار غنم بن عوف کو بھی قوقل کہا جاتا تھا۔اسی طرح حضرت عبادہ بن صامت بھی قوقل کے لقب سے مشہور تھے۔بنو سالم، بنو غنم اور بنو عوف بن خزرج کو بھی قواقلہ کہا جاتا تھا۔بنو عوف کے سردار حضرت عبادہ بن صامت تھے۔جنگ احد میں شہادت حضرت نعمان بن مالک غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔انہیں صفوان بن امیہ نے شہید کیا تھا۔ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت نعمان بن مالک کو ابان بن سعید نے شہید کیا تھا۔حضرت نعمان بن مالک حضرت مُجنَّد بن زیاد اور حضرت عبادہ بن حِسحاس کو غزوہ احد کے موقع پر ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔1140 حضرت نعمان بن مالک نے رسول اللہ صلی للی کم سے غزوہ احد کے لیے نکلتے اور آپ صلی الی ظلم کے عبد اللہ بن ابی بن سلول سے مشورہ کے وقت عرض کیا کہ یارسول اللہ ! بخدا میں جنت میں ضرور داخل ہوں گا۔آپ صلی یکم نے فرمایا وہ کیسے ؟ تو حضرت نعمان نے عرض کیا اس وجہ سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ صلی علیکم اللہ کے رسول ہیں اور میں لڑائی سے ہر گز نہ بھاگوں گا۔اس پر رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا تم نے سچ کہا۔چنانچہ وہ اسی روز شہید ہو گئے۔1141 خالد بن ابو مالک جعدی روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں یہ روایت پائی کہ حضرت نعمان بن قوقل انصاری نے دعا کی تھی کہ مجھے تیری قسم اے میرے رب ! ابھی سورج غروب نہیں ہو گا کہ میں اپنے لنگڑے پن کے ساتھ جنت کی سرسبزی میں چل رہا ہوں گا۔چنانچہ وہ اسی روز