اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 456

456 اصحاب بدر جلد 5 ہوا تو عرب اس کی اطاعت نہیں کریں گے صرف مدینہ کی بات نہیں بلکہ پورے عرب کی بات ہے۔مدینہ میں بیشک انصار کا زور تھا مگر تمام عرب مکہ والوں کی عظمت اور ان کے شرف کا قائل تھا۔پس مہاجرین نے سمجھا کہ اگر اس وقت انصار میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو اہل عرب کے لئے سخت مشکل پیش آئے گی اور ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر اس ابتلا میں پورے نہ اتریں چنانچہ جب مہاجرین سب مہاجرین وہیں آئے ان میں حضرت ابو بکر حضرت عمر حضرت ابو عبیدہ بھی شامل تھے۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر بیان کرنے کے لئے ایک بہت بڑا مضمون سوچا ہوا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں جاتے ہی ایک ایسی تقریر کروں گا جس سے تمام انصار میرے دلائل کے قائل ہو جائیں گے اور وہ اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ انصار کے بجائے مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کریں مگر جب ہم وہاں پہنچے تو حضرت ابو بکر تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ انہوں نے بھلا کیا بیان کرنا ہے مگر خدا کی قسم جتنی باتیں میں نے سوچی ہوئی تھیں وہ سب انہوں نے بیان کر دیں حضرت ابو بکر نے بلکہ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے پاس سے بھی بہت سے دلائل دیئے تب میں نے سمجھا کہ میں ابو بکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔غرض مہاجرین نے انہیں بتایا کہ اس وقت قریش میں سے ہی امیر ہونا ضروری ہے اور رسول کریم صلی ا لنی کیم کی یہ حدیث بھی پیش کی کہ الائمةُ مِن قریش۔کہ قریش میں سے تمہارے امام ہونا اور ان کی سبقت دین اور ان کی قربانیوں کا ذکر کیا جو وہ دین کے لئے کرتے چلے آئے تھے۔اس پر حباب بن منذر خزرجی نے مخالفت کی اور کہا کہ ہم اس بات کو نہیں مان سکتے کہ مہاجرین میں سے خلیفہ ہو نا چاہئے۔ہاں اگر آپ لوگ کسی طرح نہیں مانتے اور آپ کو اس پر بہت اصرار ہے تو پھر یہی ہے کہ ایک امیر آپ میں سے ہو جائے ایک ہمارے میں سے۔اس پر عمل کیا جائے۔ایک خلیفہ ہم میں سے ہو اور ایک آپ لوگوں میں سے۔حضرت عمر نے فرمایا کہ سوچ سمجھ کر بات کرو۔تمہیں معلوم نہیں کہ رسول کریم صلی الم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت میں دو امیروں کا ہونا جائز نہیں ہے اس سے معلوم ہو تا ہے حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیثیں تو ایسی موجود تھیں جن میں رسول کریم ملی ایم نے نظام خلافت کی تشریح کی ہوئی تھی مگر آپ کی زندگی میں صحابہ کا ذ ہن ادھر منتقل نہیں ہوا اور اس کی وجہ وہی خدائی حکمت تھی جس کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے اس جو بیان کرائے ہیں اس کے پہلے سیاق میں کر چکے ہیں۔بہر حال کہتے ہیں کہ پس تمہارا یہ مطالبہ حضرت عمر نے کہا کہ تمہارا یہ مطالبہ کہ ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے عقلاً اور شرعاً کسی طرح جائز نہیں۔پھر حضرت ابو بکر کا انتخاب کس طرح ہوا کچھ بحث مباحثہ کے بعد حضرت ابو عبیدہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے انصار کو توجہ دلائی کہ تم پہلی قوم ہو جو مکہ کے باہر ایمان لائی اب رسول کریم صلی یی کمی کی وفات کے بعد تم پہلی قوم نہ بنو جنہوں نے دین کے منشا کو بدل دیا اور کہتے ہیں کہ اس کا طبائع پر ایسا اثر ہوا کہ بشیر بن سعد خزر جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے