اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 454
اصحاب بدر جلد 5 454 ساتھ تھے ہمارے مخالف تھے اور مہاجر اکٹھے ہو کر ابو بکر کے پاس آئے میں نے ابو بکر سے کہا کہ ابو بکر آؤ ہم اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس چلیں ہم انہیں کا قصہ بیان کرتے ہوئے چلے وہی باتیں کرتے ہوئے چلے جارہے تھے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہیں۔جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک مرد ہمیں ملے اور پہلی روایت جو میں نے بیان کی تھی اس کے مطابق وہ جو دو نیک مرد تھے ان میں سے ایک حضرت معن بن عدی تھے۔1048 بہر حال آپ فرماتے ہیں اور جس مشورے پر وہ لوگ یعنی انصار جو تھے بالا تفاق آمادہ تھے ان دونوں نے جو ملے ہمیں رستہ میں ان کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ اے مہاجرین کی جماعت تم کہاں جانا چاہتے ہو۔ہم نے کہا کہ ہم ان انصاری بھائیوں کو ملنا چاہتے ہیں تو ان دونوں نے کہا یہ جو ملے تھے راستے میں جن میں حضرت معن بن عدی بھی تھے کہ ہر گز نہ وہاں جانا تمہیں یہی مناسب ہے کہ ان کے پاس نہ جاؤ۔جو تم نے مشورہ کرنا ہے وہ خود ہی کر لو۔حضرت عمر کہتے ہیں میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم ضرور ان کے پاس جائیں گے اور ہم یہ کہہ کر چل پڑے اور بنو ساعدہ کے شامیانے میں ان کے پاس پہنچے۔8 وہاں انصار کی حضرت ابو بکر کی اور حضرت عمر کی ایک لمبی بحث ہوئی اور جو گفتگو تھی وہ خلافت کے انتخاب کے بارے میں تھی اور اس کی پھر ایک آگے لمبی تفصیل ہے۔اس کی کچھ حد تک تفصیل جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائی ہے وہ میں بیان کر دیتا ہوں۔اس ثقیفہ بنو ساعد ہ والے یہاں انصار کی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی علیکم کی وفات پر صحابہ کے تین گروہ بن گئے تھے۔ایک گروہ نے یہ خیال کیا کہ رسول کریم صلی علیکم کے بعد ایک ایسا شخص ضرور ہونا چاہئے جو نظام اسلامی کو قائم کرے مگر چونکہ نبی کے منشاء کو اس کے اہل وعیال ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اس لئے نبی کریم علی ایم کے اہل میں سے ہی کوئی شخص مقرر ہونا چاہیئے۔ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ آپ کی اولاد میں سے کوئی شخص ہونا چاہئے۔کسی اور خاندان میں سے کوئی اور شخص نہیں ہونا چاہئے۔اس گروہ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اگر کسی اور خاندان میں سے کوئی شخص خلیفہ مقرر ہو گیا تو لوگ اس کی باتیں مانیں گے نہیں اور اس طرح نظام میں خلل واقع ہو گا۔سے مراد ہے اولاد یا ان کے قریبی داماد وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں تو بہر حال اور اس طرح نظام میں خلل واقع ہو گا۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں لیکن اگر آپ کے خاندان میں سے ہی کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو چونکہ لوگوں کو اس خاندان کی اطاعت کی عادت ہے اس لئے وہ خوشی سے اس کی اطاعت قبول کر لیں گے۔جیسے ایک بادشاہ کی بات ماننے کے لوگ عادی ہو چکے ہوتے ہیں جب وفات پا جاتا ہے تو اس کا بیٹا جانشین بنتا ہے تو اس کی اطاعت بھی شوق سے کرنے لگ جاتے ہیں۔مگر دوسرا فریق جو تھا اس نے سوچا کہ اس کے لئے رسول کریم صلی علیم کے اہل میں سے ہونے کی شرط ضروری نہیں ہے۔مقصد تو یہ ہے کہ رسول کریم کا ایک جانشین ہو۔پس جو سب سے زیادہ اس کا