اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 444

اصحاب بدر جلد 5 444 جب صبح عمر و اٹھتے تو کہتے تمہارا برا ہو۔کس نے رات ہمارے معبودوں سے دشمنی کی۔پھر اس کو ، ڈھونڈنے نکل پڑتے یہاں تک کہ جب اسے پالیتے تو اسے دھوتے اور صاف کرتے۔پھر کہتے خدا کی قسم ! اگر میں یہ جان لوں کہ کس نے تیرے ساتھ ایسا کیا تو ضرور میں اسے رسوا کروں گا۔پھر جب رات ہوتی اور عمر و سو جاتے تو دوبارہ ان کے بیٹے وہی حرکت کرتے۔پھر عمرو بن جموح نے بت کو وہاں سے باہر نکالا جہاں اسے پھینکا گیا تھا پھر اسے دھویا اور صاف کیا۔پھر وہ اپنی تلوار لائے اور اس کے گلے میں لٹکا دی اور کہا کہ اللہ کی قسم ایقینا مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ تیرے ساتھ ایسا کون کرتا ہے پس اگر تجھ میں کوئی طاقت ہے تو اس کو روک لے اور یہ تلوار تیرے پاس پڑی ہے۔بت کے پاس تلوار رکھ دی۔جب شام ہوئی اور عمر و سو گئے تو ان نوجوانوں نے جن میں ان کا اپنا بیٹا شامل تھا اس بہت سے دوبارہ وہی سلوک کیا۔اس کے گلے سے وہ تلوار لی اور ایک مردہ کتے کو لے کر اس بت کو رسی کے ساتھ اس سے باندھ دیا اور بنو سلمہ کے پرانے کنویں میں پھینک دیا جس میں کوڑا کرکٹ وغیرہ پھینکا جاتا تھا۔پس وہ اسے ڈھونڈتے رہے یہاں تک کہ اس کنویں میں اوندھے منہ مردہ کتے کے ساتھ بندھا پایا۔جب انہوں نے یہ نظارہ دیکھا تو ان پر حقیقت کھل گئی اور ان کی قوم کے مسلمان لوگوں نے بھی انہیں اسلام کی تعلیم دی تو آپ خدا کی رحمت سے اسلام لے آئے۔1027 ابن ہشام کی سیرت میں یہ واقعہ اس طرح لکھا ہے کہ بت تو تلوار کے ساتھ بھی کچھ نہیں کر سکا تو ایسے خدا کو پوجنے کا کیا فائدہ ! حضرت معاذ بن عمرو بن جموح ابو جہل کو قتل کرنے والوں میں بھی شامل تھے۔چنانچہ بخاری کی روایت میں درج ہے کہ صالح بن ابراہیم اپنے دادا حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ میں بدر کی لڑائی میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو انصاری لڑکے ہیں۔ان کی عمریں چھوٹی ہیں۔میں نے آرزو کی کہ کاش میں ایسے لوگوں کے درمیان ہو تا جو ان سے زیادہ جوان، تنومند ہوتے۔اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ سے دبا کر پوچھا کہ چچا کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں بھیجے۔تمہیں اس سے کیا کام ہے ؟ اس نے کہا مجھے بتلایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی علیہم کو گالیاں دیتا ہے اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ پاؤں تو میری آنکھ اس کی آنکھ سے جدا نہ ہو گی جب تک ہم دونوں میں سے وہ نہ مرجائے جس کی مدت پہلے مقدر ہے۔میں اس پر بڑا حیران ہوا۔پھر دوسرے نے مجھے ہاتھ سے دبایا اور اس نے بھی مجھے اسی طرح پوچھا۔ابھی تھوڑا عرصہ گزرا ہو گا کہ میں نے ابو جہل کو لوگوں میں چکر لگاتے دیکھا۔میں نے کہا دیکھو وہ ہے تمہارا سا تھی جس کے متعلق تم نے مجھے سے دریافت کیا تھا۔یہ سنتے ہی وہ دونوں جلدی سے اپنی تلواریں لیے اس کی طرف لپکے اور اس پر حملہ کر کے دونوں نے اسے قتل کر ڈالا۔پھر وہ دونوں لوٹ کر رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔آپ نے پوچھا تم میں سے کس نے اس کو مارا ہے۔دونوں نے کہا میں نے اس کو مارا ہے۔آپ نے