اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 432
اصحاب بدر جلد 5 432 امیر المومنین نے آپ کے لیے کہا ہے کہ اس مال کو اپنی ضروریات کے لیے استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ اللہ ان پر رحم کرے۔پھر انہوں نے اپنی لونڈی کو بلایا اور کہا یہ سات دینار فلاں کے پاس لے جاؤ اور یہ پانچ فلاں کے پاس لے جاؤ اور یہ پانچ فلاں کے پاس لے جاؤ یہاں تک کہ وہ سب ختم کر دیے۔اپنی ملازمہ کو بلا کے مختلف گھروں میں بھجوانے کے لیے دیے کہ جا کے فلاں فلاں گھروں میں یہ دے آؤ۔غریب گھر ہوں گے۔پھر وہ غلام جو تھا حضرت عمرؓ کے پاس واپس آیا اور ساری بات بتائی۔حضرت عمرؓ نے اتنے ہی دینار حضرت معاذ کے لیے بھی تیار رکھے ہوئے تھے۔جتنے ابو عبیدہ کو بھیجے تھے اتنے ہی حضرت معاذ کے لیے تیار رکھے تھے۔دوسری تھیلی تیار کی ہوئی تھی۔انہوں نے غلام سے کہا کہ اس کو حضرت معاذ کے پاس لے جاؤ اور ان کے پاس گھر میں تھوڑی دیر رکنا اور دیکھنا کہ وہ ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔چنانچہ وہ غلام تھیلی لے کر حضرت معاذ کے پاس گیا۔ان سے کہا کہ امیر المومنین نے کہا ہے کہ اس کو اپنی ضروریات کے لیے استعمال کریں۔حضرت معاذ نے کہا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔پھر انہوں نے لونڈی کو بلایا اور کہا اتنے دینار فلاں گھر لے جاؤ اور اتنے فلاں گھر میں لے جاؤ۔اتنے میں حضرت معاذ کی اہلیہ بھی آگئیں اور انہوں نے کہا بخدا ہم بھی مساکین ہیں یعنی گھر میں بھی کچھ نہیں ہے۔کچھ گھر کے لیے بھی تو رکھ لو۔منافع کمانے کی، ہدیہ لینے کی وہ باتیں جو پہلے آئی تھیں وہ بھی یہاں مزید clear ہوتی ہیں، واضح ہو جاتی ہیں۔ہمارے گھر میں بھی کچھ نہیں ہے۔ہم بھی مسکینوں میں شامل ہیں۔ہمیں بھی دیں۔تھیلی میں صرف اس وقت دو دینار بچے تھے۔سارے آپ بانٹ چکے تھے۔حضرت معاذ نے وہ دونوں دینار جو تھے اپنی اہلیہ کی طرف اچھال دیے اور غلام حضرت عمر کے پاس آیا اور ان کو ساری بات سے آگاہ کیا۔حضرت عمررؓ اس سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا یقینا یہ دونوں حضرت عبیدہ اور حضرت معاذ اسی طرح خرچ کرنے میں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔995 جس طرح یہ خرچ کرتے ہیں ان کی یہ صفت ایک ہے۔طاعون عمواس اور حضرت عمر فکا فیصلہ شريح بن عبید اور راشد بن سعد وغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جب سرغ مقام پر پہنچے، سرغ وادی تبوک کی ایک بستی کا نام ہے۔تو آپ کو بتایا گیا کہ شام میں سخت وبا پھیلی ہوئی ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ شام میں شدید وبا پھیلی ہوئی ہے۔میری رائے یہ ہے کہ اگر میری وفات کا وقت آجائے اور ابو عبیدہ بن جراح زندہ ہوں تو میں انہیں اپنا خلیفہ نامزد کر دوں گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ان کے متعلق سوال کیا کہ تم نے اسے امت محمدیہ پر خلیفہ کیوں مقرر کیا تو میں یہ عرض کروں گا کہ میں نے تیرے رسول کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور میرا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔یہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔لوگوں کو یہ بات اچھی نہ لگی وہ کہنے لگے کہ قریش کے بڑے لوگوں یعنی بنو فقر کا کیا بنے گا؟ پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میری وفات کا وقت آ