اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 418

اصحاب بدر جلد 5 962 418 يَغْشی پڑھی کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے اور کمزور اور حاجت مند بھی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔یہ بخاری کی روایت ہے جیسا کہ میں نے کہا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نماز میں چھوٹی سورتیں پڑھنے کے متعلق آنحضرت صلی علیہ کم کی حضرت معاذ بن جبل کو نصیحت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول كريم صلى الميريم سورة الاعلى، سورة الغاشیہ ، سورۃ الفجر اور اسی قسم کی بعض اور سورتوں کو عام طور پر فرض نمازوں میں پڑھنا زیادہ پسند فرمایا کرتے تھے۔نسائی نے جابر سے روایت کی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک آدمی ان کے ساتھ پیچھے سے آکر شامل ہوا۔حضرت معاذ نے نماز لمبی شروع کر دی۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے سورہ آل عمران یا سورہ نساء کی تلاوت شروع کر دی تھی۔جب نماز لمبی ہو گئی تو اس نے اپنی نماز توڑ کر ایک دوسرے کونے میں جا کر علیحدہ نماز شروع کر دی اور فارغ ہو کر چلا گیا۔نماز کے بعد کسی شخص نے حضرت معاذ سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے ساتھ نماز شروع کی مگر جب آپ نے نماز میں دیر لگادی تو وہ نماز توڑ کر علیحدہ ہو گیا اور ایک کونے میں نماز پڑھ کر چلا گیا۔حضرت معاذ نے کہا وہ منافق ہو گا۔پھر انہوں نے رسول کریم صلی علیم سے بھی اس واقعے کا ذکر کیا۔یہاں آپ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ حضرت معاذ نے خود ذکر کیا اور کہا یار سول اللہ ! میں نماز پڑھا رہا تھا کہ پیچھے فلاں شخص آکر شامل ہوا مگر جب نماز لمبی ہو گئی تو وہ نماز توڑ کر الگ ہو گیا اور علیحدہ نماز پڑھ کر چلا گیا۔جب اس شخص کو معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی علیکم کے پاس میری شکایت کی گئی ہے تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یارسول اللہ ! میں آیا تو یہ نماز پڑھا رہے تھے۔میں ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا مگر انہوں نے نماز لمبی کر دی۔آخر ہم کام کرنے والے آدمی ہیں۔میری اونٹنی بغیر چارے کے کھڑی تھی۔میں نے نماز توڑ کر مسجد کے ایک کونے میں اپنی نماز ختم کرلی اور پھر گھر جا کر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔رسول کریم صلی علیہ کی یہ سن کر حضرت معاذ پر ناراض ہوئے اور ان سے فرما یا معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو ؟ تمہیں سبح اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُهَا وَالْفَجْرِ اور وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشی کے پڑھنے میں کیا تکلیف ہوتی تھی ؟ تم نے یہ سورتیں کیوں نہ پڑھیں اور لمبی سورتیں کیوں پڑھنا شروع کر دیں ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی ال ولیم نے ان سورتوں کو اوسط سورتوں میں قرار دیا ہے۔خاص اوقات میں انسان بے شک لمبی سورتیں پڑھ لے یا تکلیف اور بیماری کی صورت میں چھوٹی سورتیں پڑھ لے لیکن اوسط سورتیں یہی ہیں جن کو عام طور پر بالجہر نمازوں میں پڑھنا چاہیے۔بہر حال یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ضروری نہیں کہ یہی سورتیں پڑھی جائیں۔صرف اصولی ہدایت یہ ہے کہ جب باجماعت نماز ادا ہو رہی ہو تو زیادہ لمبی سورتیں نہیں پڑھنی۔لیکن اپنے حالات کے مطابق اور بعض لوگوں کو جس جس طرح سورتیں حفظ ہوتی ہیں، بعض کو چھوٹی سورتیں حفظ ہیں۔امامت کے لیے اور کوئی بھی نہیں ملتا اور اسی کو نماز پڑھانی پڑتی ہے تو وہ بھی پڑھائی جاسکتی ہیں۔اصولی ہدایت یہ ہے کہ باجماعت نماز میں لمبی سورتیں نہیں پڑھانی کیونکہ مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔963