اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 406

اصحاب بدر جلد 5 406 رسول اللہ صلی علیکم کے آگے لڑ رہے تھے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔آپ کو ابن قمیقہ نے شہید کیا۔جھنڈے کی حفاظت کا حق خوب ادا کیا 927 تاریخ میں آتا ہے کہ غزوہ احد کے علمبر دار حضرت مصعب بن عمیر نے جھنڈے کی حفاظت کا حق خوب ادا کیا۔غزوۂ احد کے روز حضرت مصعب جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے کہ ابن قیمہ نے جو گھوڑے پر سوار تھا حملہ آور ہو کر حضرت مصعب کے دائیں بازو پر جس سے آپ نے جھنڈا تھام رکھا تھا تلوار سے وار کیا اور اسے کاٹ دیا۔اس پر حضرت مُصْعَب " یہ آیت تلاوت کرنے لگے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔اور جھنڈا بائیں ہاتھ سے تھام لیا۔ابن قیمہ نے بائیں ہاتھ پر وار کر کے اسے بھی کاٹ ڈالا تو آپ نے دونوں بازوؤں سے اسلامی جھنڈے کو اپنے سینے سے لگالیا۔اس کے بعد ابن قميقة نے تیسری مرتبہ نیزے سے حملہ کیا اور حضرت مصعب کے سینے میں گاڑ دیا۔نیزہ ٹوٹ گیا۔حضرت مُصْعَب گر پڑے۔اس پر بنو عبد الدار میں سے دو آدمی سُوَيبط بن سعد بن حَرُمَله اور ابو ر وم بن عمیر آگے بڑھے اور جھنڈے کو ابو رُوم بن عمیر نے تھام لیا اور وہ انہی کے ہاتھ میں رہا یہاں تک کہ مسلمان واپس ہوئے اور مدینہ میں داخل ہو گئے۔شہادت کے وقت حضرت مصعب کی عمر چالیس سال یا اس سے کچھ زائد تھی۔928 929 رض جھنڈے کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں اس طرح لکھا ہے کہ : " قریش کے لشکر نے قریباً چاروں طرف گھیر اڈال رکھا تھا اور اپنے پے در پے حملوں سے ہر آن دباتا چلا آتا تھا اس پر بھی مسلمان شاید تھوڑی دیر بعد سنبھل جاتے مگر غضب یہ ہوا کہ قریش کے ایک بہادر سپاہی عبد اللہ بن قينة نے مسلمانوں کے علمبر دار مصعب بن عمیر پر حملہ کیا اور اپنی تلوار کے وار سے ان کا دایاں ہاتھ کاٹ گرایا۔مُصْعَب نے فور دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا اور ابن قمیئہ کے مقابلہ کے لیے آگے بڑھے مگر اس نے دوسرے وار میں ان کا دوسرا ہاتھ بھی قلم کر دیا۔اس پر مُصعب نے اپنے دونوں کٹے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کر گرتے ہوئے اسلامی جھنڈے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اسے چھاتی سے چمٹا لیا۔جس پر ابن قمیئہ نے ان پر تیسر اوار کیا اور اب کی دفعہ مُضعَب شہید ہو کر گر گئے۔جھنڈ ا تو کسی دوسرے مسلمان نے فوراً آگے بڑھ کر تھام لیا مگر چونکہ مُصْعَب ماڈیل ڈول آنحضرت صلی للی کنم سے ملتا تھا ابن قمیہ نے سمجھا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مار لیا ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی طرف سے یہ تجویز محض شرارت اور دھوکا دہی کے خیال سے ہو۔بہر حال اس نے مصعب کے شہید ہو کر گرنے پر شور مچادیا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مار لیا ہے۔اس خبر سے مسلمانوں کے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے اور ان کی جمعیت بالکل منتشر ہو گئی۔930