اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 397

اصحاب بدر جلد 5 حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے 397 آپ قید میں ہی رہے یہاں تک کہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے۔ان کو موقع ملا، باہر آئے اور پھر ہجرت کر گئے۔کچھ عرصے بعد بعض مہاجرین حبشہ سے مکہ واپس آئے تو حضرت مصعب بن عمیر بھی ان میں شامل تھے۔آپ کی والدہ نے جب آپؐ کی حالت زار دیکھی تو آئندہ سے مخالفت ترک کر دی اور بیٹے کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔حضرت مصعب بن عمیر کو دو ہجرتیں کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے پہلے حبشہ اور بعد میں مدینے کی طرف ہجرت کی۔اسلام کی خاطر اتنے دکھ جھیلے کہ۔۔۔907 حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیر کو میں نے آسائش کے زمانے میں بھی دیکھا اور مسلمان ہونے کے بعد بھی۔اسلام کی خاطر انہوں نے اتنے دکھ جھیلے کہ میں نے دیکھا کہ ان کے جسم سے جلد اس طرح اترنے لگی تھی جیسے سانپ کی کینچلی اترتی ہے اور نئی جلد آتی یہ قربانی کے ایسے ایسے معیار تھے جو حیرت انگیز ہیں۔ہے۔رسول اللہ صلی الم نے حضرت مصعب بن عمیر کو دیکھاتو رونے لگے 908 ایک روز مصعب بن عمیر رسول اللہ صلی علی یکم کے پاس تشریف لائے جبکہ آپ صلی علیہ کم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔اس وقت حضرت مصعب کے پیوند شدہ کپڑوں میں چمڑے کی ٹاکیاں لگی ہوئی تھیں۔کہاں تو وہ کہ اعلیٰ درجے کالباس اور کہاں مسلمان ہونے کے بعد یہ حالت کہ چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے۔صحابہ نے حضرت مصعب کو دیکھا تو سر جھکا لیے کہ وہ بھی حضرت مصعب بن عمیر کی تبدیلی حالت میں کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔حضرت مصعب بن عمیر نے آکر سلام کیا۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے اس کا جواب دیا اور اس کی احسن رنگ میں ثنا بیان فرمائی۔پھر فرمایا کہ الحمد للہ دنیا داروں کو ان کی دنیا نصیب ہو۔میں نے مصعب کو اُس زمانے میں دیکھا ہے جب شہر مکہ میں اس سے بڑھ کر صاحب ثروت و نعمت کوئی نہ تھا۔یہ ماں باپ کی عزیز ترین اولاد تھی مگر خدا اور اس کے رسول کی محبت نے اسے آج اس حال تک پہنچایا ہے اور اس نے وہ سب کچھ خدا اور اس کی رضا کی خاطر چھوڑ دیا ہے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا ہم نے حضرت مصعب بن عمیر صو دیکھا تو ان کی نازو نعمت والی حالت کو یاد کر کے رونے لگے جس میں وہ رہا کرتے تھے۔جو ان کی پہلی حالت تھی آنحضرت صلی الله علم کو یاد آئی کہ کس طرح اب قربانی کر رہے ہو۔حضرت علی سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت مصعب بن عمیر آئے۔ان کے بدن پر چمڑے کی پیوند لگی ہوئی ایک چادر تھی۔جب رسول اللہ صلی الیکم نے انہیں دیکھا تو ان کی اس ناز و نعمت کو یاد کر کے رونے لگے جس میں وہ پہلے تھے اور جس حالت میں وہ