اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 22

اصحاب بدر جلد 5 22 22 آنحضرت الیکم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ تم نے دشمن کو کہاں دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ نشیبی علاقے میں۔آپ نے فرمایا یہی میر انبھی خیال تھا جہاں تک ان کا یعنی قریش کا تعلق ہے تو آنحضرت علی ایم نے فرمایا کہ ان کو ہمارے ساتھ آئندہ کبھی اس طرح کا معاملہ کرنے کا موقع نہیں مل سکتا۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے کو ہمارے ہاتھوں سے فتح کر دے گا۔74 ایک مہم پر بھیجا جانا غزوہ تبوک کے موقعے پر آنحضرت صلی اللہ ہم کو خبر ملی کہ بعض منافقین سویلم یہودی کے گھر جمع ہو رہے ہیں اور اس کا گھر جاسوم مقام کے قریب تھا۔جاسوم کوہ پر جاہیم بھی کہتے ہیں۔یہ شام کی سمت میں رائج کے نواح میں ابو هیشم بن تیمان کا کنواں تھا اور اس کا پانی بہت عمدہ تھا۔رسول اللہ صلی علیم نے اس کا پانی پیا تھا۔بہر حال وہ اس کے گھر جمع ہو رہے تھے اور وہ منافق ان لوگوں کو غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ جانے سے روک رہا تھا۔رسول اللہ صلی للی نیلم نے حضرت طلحہ سمو بعض اصحاب کی معیت میں اس کی طرف روانہ کیا اور حکم دیا کہ سویلم کے گھر کو آگ لگا دی جائے۔حضرت طلحہ نے ایسا ہی کیا۔ضحاك بن خلیفہ گھر کے عقب سے بھاگنے لگا۔اس دوران اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور اس کے باقی اصحاب فرار ہو گئے۔75 طلحہ اور زبیر جنت میں میرے دو ہمسائے 76 حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی علیم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ طلحہ اور زبیر " جنت میں میرے دو ہمسائے ہوں گے۔غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والوں میں سے ایک حضرت کعب بن مالک بھی تھے۔ان کا بائیکاٹ ہوا۔چالیس روز کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور معافی کا اعلان ہوا اور یہ مسجد میں آنحضرت صلی للی علم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت طلحہ نے آگے بڑھ کر حضرت کعب سے مصافحہ کیا۔ان کو مبارک باد دی۔سوائے حضرت طلحہ کے مجلس سے کوئی نہ اٹھا تھا۔حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا۔77 حضرت سعید بن زید بیان کرتے ہیں کہ میں نو لوگوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی یہی گواہی دوں تو گناہ گار نہیں ہوں گا۔کہا گیا یہ کیسے ممکن ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے تو وہ ملنے لگا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ٹھہرارہ اسے حراء ایقینا تجھ پر ایک نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں۔عرض کیا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ تو حضرت سعید نے کہار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبد الرحمن بن عوف ہیں۔یہ نو لوگ تھے۔پوچھا گیا دسویں کون ہیں ؟ تو انہوں نے تھوڑی دیر توقف کیا اور پھر حضرت سعید بن زید نے کہا کہ وہ میں ہوں۔78