اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 21

اصحاب بدر جلد 5 21 آپ کو گھاٹی میں لے گئے اور سہارے سے بٹھا دیا۔یہ طبقات الکبریٰ کا حوالہ ہے۔2 غزوہ احد اور جانباز اور وفادار صحابی۔۔۔حضرت مصلح موعود کا بیان 72 غزوہ احد کے دن جب خالد بن ولید نے مسلمانوں پر اچانک حملہ کیا اور مسلمانوں میں انتشار پھیل گیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے جو تفصیل مختلف روایتوں سے لے کے بیان فرمائی ہے ، وہ جو پچھلے واقعات گزر چکے ہیں ان کی مزید تفصیل ہے۔وہ حضرت طلحہ کی ثابت قدمی اور قربانی کے معیار کا ایک عجیب نظارہ پیش کرتی ہے۔پہلے بھی اسی سے جو دیکھ چکے ہیں، سن چکے ہیں اسی سے یہ معیار نظر آرہا ہے لیکن بہر حال اس کی تفصیل کچھ اور اس طرح ہے جو آپ نے بیان فرمائی۔فرماتے ہیں کہ " چند صحابہ دوڑ کر رسول اللہ صلی علی یلم کے گرد جمع ہو گئے جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ تیں تھی۔کفار نے شدت کے ساتھ اس مقام پر حملہ کیا جہاں رسول کریم صلی علیہ کم کھڑے تھے۔یکے بعد دیگرے صحابہ آپ کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جانے لگے۔علاوہ شمشیر زنوں کے تیر انداز اونچے ٹیلوں پر کھڑے ہو کر رسول کریم صلی علیم کی طرف بے تحاشہ تیر مارتے تھے۔" یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن اس وقت بے تحاشا تیر مارتے تھے۔" اس وقت طلحہ نے جو قریش میں سے تھے اور مکہ کے مہاجرین میں شامل تھے ، یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن سب کے سب تیر رسول اللہ صلی ال نیم کے منہ کی طرف پھینک رہا ہے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی ال ولیم کے منہ کے آگے کھڑا کر دیا۔تیر کے بعد تیر جو نشانہ پر گرتا تھاوہ طلحہ کے ہاتھ پر گرتا تھا مگر جانباز اور وفادار صحابی اپنے ہاتھ کو کوئی حرکت نہیں دیتا تھا۔اس طرح تیر پڑتے گئے اور طلحہ کا ہاتھ زخموں کی شدت کی وجہ سے بالکل بے کار ہو گیا اور صرف ایک ہی ہاتھ ان کا باقی رہ گیا۔سالہا سال بعد اسلام کی چوتھی خلافت کے زمانہ میں جب مسلمانوں میں خانہ جنگی واقع ہوئی تو کسی دشمن نے طعنہ کے طور پر طلحہ ھو کہائنڈا۔اس پر ایک دوسرے صحابی نے کہا ہاں منڈا ہی ہے مگر کیسا مبارک منڈا ہے۔تمہیں معلوم ہے طلحہ عکا یہ ہاتھ رسول کریم ملی ایم کے منہ کی حفاظت میں ٹھنڈا ہوا تھا۔احد کی جنگ کے بعد کسی شخص نے طلحہ سے پوچھا کہ جب تیر آپ کے ہاتھ پر گرتے تھے تو کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اور کیا آپ کے منہ سے اف نہیں نکلتی تھی ؟ طلحہ نے جواب دیا۔درد بھی ہوتی تھی اور اُف بھی نکلنا چاہتی تھی لیکن میں اُف کرتا نہیں تھا تا ایسا نہ ہو کہ اُف کرتے وقت میر اہا تھ ہل جائے اور تیر رسول اللہ کی کمی کے منہ پر آگرے۔" ستر زخم کھانے پر بھی آنحضرت صلی اللہ علم کے زخموں کا فکر 7311 غزوہ حمراء الاسد کے موقعے پر تعاقب میں روانہ ہوتے ہوئے آنحضرت صلی لی ایم کو حضرت طلحہ بن عبید اللہ ملے۔آپ صلی علیہم نے ان سے فرمایا: طلحہ تمہارے ہتھیار کہاں ہیں ؟ حضرت طلحہ نے عرض کیا کہ قریب ہی ہیں۔یہ کہہ کر وہ جلدی سے گئے اور اپنے ہتھیار اٹھا لائے حالانکہ اس وقت طلحہ کے صرف سینے پر ہی احد کی جنگ کے نو زخم تھے۔ان کے جسم پر کل ملا کر ستر سے اوپر زخم تھے۔حضرت طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے زخموں کی نسبت آنحضرت صلی علیم کے زخموں کے متعلق زیادہ فکر مند تھا۔