اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 347
347 اصحاب بدر جلد 5 شہید ہونے کی افواہ پھیلی تو حضرت مالک بن دخشم حضرت خارجہ بن زید کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سینے پر تیرہ مہلک زخم آئے تھے۔حضرت مالک نے ان سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں۔حضرت خارجہ نے جواب دیا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو یقینا اللہ زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا۔یقینا انہوں نے پیغام یعنی اسلام کا پیغام پہنچا دیا ہے۔پس اپنے دین کی خاطر لڑو۔راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت مالک حضرت سعد بن ربیع کے پاس سے گزرے اور ان کو بارہ مہلک زخم آئے تھے۔حضرت مالک نے حضرت سعد سے کہا۔کیا تمہیں معلوم ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔حضرت سعد نے جواب دیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے پیغام کو پہنچادیا ہے۔پس اپنے دین کی خاطر لڑو کیونکہ اللہ زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔837 ایک روایت میں بیان ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ یعنی حضرت مالک بن دختم منافقین کی پناہ گاہ ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟ تم کہتے ہو منافق ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتا؟ لوگوں نے عرض کیا جی۔یار سول اللہ نماز تو پڑھتا ہے مگر وہ ایسی نماز ہے جس میں کوئی خیر نہیں ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا مجھے نماز پڑھنے والوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔38 یہ آج کل کے مسلمانوں کے لیے بھی سبق ہے۔ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن دُختم کے ساتھ حضرت معن بن عدی کے بھائی حضرت عاصم بن عدی کو مسجد ضرار کے منہدم کرنے کے لیے روانہ فرمایا تھا۔839 حضرت مالک کے بارے میں آتا ہے کہ ان کی نسل نہیں چلی۔267 حضرت مالک بن عمرو 840 حضرت مالک بن عمرو صحابی ہیں۔حضرت مالک بن عمرو کا تعلق قبیلہ بنو سلیم کے خاندان بنوتجر سے تھا اور یہ بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ان کے والد کا نام عمر و بن سُمیط تھا۔シ حضرت مالک اپنے دو بھائیوں حضرت ثَقف بن عمرو اور حضرت مُدلج بن عمرو کے ہمراہ 841 جنگ بدر میں شریک ہوئے۔حضرت مالک غزوہ احد اور دیگر غزوات میں آنحضرت صلی علیم کے ساتھ شامل رہے اور 12 ہجری