اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 308
اصحاب بدر جلد 5 308 عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا۔دُور ہٹ مر دود بد تر۔کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی کو اذیت پہنچارہا ہے۔724 242 حضرت عمارة بن حزیم بیعت عقبہ اور تمام غزوات میں شریک حضرت عمارہ بن حزم۔حضرت عمارہ ان ستر صحابہ میں شامل ہیں جو بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے تھے۔ان کے بھائی حضرت عمر و بن حزم اور حضرت مُعمر بن حزم بھی صحابی تھے۔غزوہ بدر ، غزوۂ احد سمیت دیگر تمام غزوات میں رسول کریم صلی الی ریم کے ساتھ شامل ہوئے۔فتح مکہ کے دن بنو مالک بن نجار کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا۔رسول کریم صلی علیم نے عمارہ کی مواخات حضرت محرز بن نضلہ سے کروائی، ہجرت کے بعد ان کا بھائی بنایا۔آنحضرت صلی الی ایم کی وفات کے بعد جو مرتدین کا فتنہ اٹھا اور انہوں نے جنگ شروع کی مسلمانوں کے ساتھ ان کے خلاف لڑائی میں بھی حضرت خالد بن ولید کے ساتھ یہ شامل ہوئے اور جنگ یمامہ میں ان کی شہادت ہوئی۔725 ان کی والدہ کا نام خالدہ بنت انس تھا۔726 رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں حضرت عمارہ بن حزم کے پاس لے جاؤ تا کہ وہ دم کریں ابو بکر بن محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سہل کو سانپ نے کاٹ لیا تو رسول کریم صلی علیکم نے فرمایا کہ انہیں حضرت عمارہ بن حزم کے پاس لے جاؤ تاکہ وہ دم کریں۔انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ تو مرنے کے قریب ہیں۔رسول کریم صلی علیم نے فرمایا کہ تم عمارہ کے پاس لے جاؤ وہ دم کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ شفا دے گا۔727 یقینا آنحضرت صلی علی کرم نے ہی آپ کو یہ دم سکھایا تھا اور دعا سکھائی ہو گی۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللهم نعوذ باللہ حضرت عمارہ کے دم کے محتاج تھے یا آپ نہیں کر سکتے تھے۔لوگوں کو خاص طور پر بعض کاموں کے لئے مقرر کیا ہوا تھا اور اس کے پیچھے بہر حال قوت قدسی اور برکات آنحضرت صلی الم کی ہی تھیں۔