اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 305
اصحاب بدر جلد 5 305 مصر میں چونکہ خود عبد اللہ بن سبا موجود تھا اور وہ اس بات سے غافل نہ تھا کہ اگر اس تحقیقاتی وفد نے تمام ملک میں امن و امان کا فیصلہ دیا تو تمام لوگ ہمارے مخالف ہو جاویں گے۔اس وفد کے بھیجے جانے کا فیصلہ ایسا اچانک ہوا تھا کہ دوسرے علاقوں میں وہ کوئی انتظام نہیں کر سکا تھا مگر مصر کا انتظام اس کے لئے آسان تھا۔جو نہی عمار بن یاسر مصر میں داخل ہوئے اس نے ان کا استقبال کیا اور والی مصر ” عمرو بن عاص کی برائیاں اور مظالم بیان کرنے شروع کئے۔وہ اس کے لسانی سحر کے اثر سے محفوظ نہ رہ سکے۔”ایسی باتیں کیں کہ ان پر اس کی باتوں کا جادو چل گیا۔بڑا بولنے والا تھا“ اور بجائے اس کے کہ ایک عام بے لوث تحقیق کرتے۔والی مصر کے پاس گئے ہی نہیں اور نہ عام تحقیق کی بلکہ اسی مفسد گروہ کے ساتھ چلے گئے اور انہی کے ساتھ مل کر اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔صحابہ میں سے اگر کوئی شخص اس مفسد گروہ کے پھندے میں پھنسا ہوا یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے تو وہ صرف عمار بن یاسر ہیں۔ان کے سوا کوئی معروف صحابی اس حرکت میں شامل نہیں ہوا اور اگر کسی کی شمولیت بیان کی گئی ہے تو دوسری روایات سے اس کار د بھی ہو گیا ہے۔عمار بن یاسر کا ان لوگوں کے دھوکے میں آجانا ایک خاص وجہ سے تھا۔یہ نہیں تھا کہ خدانخواستہ ان میں منافقت تھی بلکہ وجہ اور تھی اور وہ یہ کہ جب وہ مصر پہنچے تو وہاں پہنچتے ہی بظاہر ثقہ نظر آنے والے اور نہایت طرار والنسان لوگوں کی ایک جماعت ان کو ملی جس نے نہایت عمدگی سے ان کے پاس والی مصر کی شکایات بیان کرنی شروع کیں۔اتفاقاً والی مصر ایک ایسا شخص تھا جو کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا سخت مخالف رہ چکا تھا اور اس کی نسبت آپ نے فتح مکہ کے وقت حکم دیا تھا کہ خواہ خانہ کعبہ ہی میں کیوں نہ ملے اسے قتل کر دیا جائے اور گو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا مگر اس کی پہلی مخالفت کا بعض صحابہ کے دل پر جن میں عمار بھی شامل تھے اثر باقی تھا۔پس ایسے شخص کے خلاف باتیں سن کر عمار بہت جلد متاثر ہو گئے اور ان الزامات کو جو اس پر لگائے جاتے تھے صحیح تسلیم کر لیا اور احساس طبعی سے فائدہ اٹھا کر سبائی یعنی عبد اللہ بن سبا کے ساتھی اس کے خلاف اس بات پر خاص زور دیتے تھے۔718" ان کے ساتھ یہ بھی مل گئے لیکن یہ بھی لکھا ہے کہ جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہنے والے اور مال اور اولاد کی طرف لوٹنے کی خواہش نہ رکھنے والے کہاں ہیں ؟ تو آپ کے پاس لوگوں کی ایک جماعت آگئی۔حضرت عمار نے اُن سے مخاطب ہو کر کہا۔اے لوگو! ہمارے ساتھ ان لوگوں کی طرف چلو جو حضرت عثمان بن عفان کے خون کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عثمان مظلوم قتل کئے گئے ہیں۔اللہ کی قسم ! وہ حضرت عثمان کے قتل کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان لوگوں نے دنیا کا مزہ چکھ لیا ہے