اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 296
296 اصحاب بدر جلد 5 کے خلاف کر دیا اور چونکہ وہ گورنر ایسے لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ایام کفر میں رسول کریم صلی یی کم کی سخت مخالفت کی تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لایا تھا اس لئے آپ بہت جلد ان لوگوں کے قبضے میں آگئے " یعنی یہ گورنر کیونکہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ کم کی مخالفت کر چکا تھا اور آنحضرت صلی علیہ ظلم سے جو محبت تھی اس کی وجہ سے ان لوگوں نے، مخالفین نے ، حضرت عثمان کے اور گورنر کے خلاف جو باتیں کیں تو آپ ان لوگوں کی باتوں میں آگئے اور سمجھا کہ یہ پہلے ہی مخالفت کر چکا ہے تو اب بھی شاید اس کے دل نے صحیح طرح اسلام قبول نہیں کیا اور یہ ایسی حرکتیں کرتا ہو گا۔بہر حال "والی کے خلاف بد ظنی پیدا کرنے کے بعد آہستہ آہستہ حضرت عثمان پر بھی انہوں نے ان کو بد ظن کر دیا مگر انہوں نے عملاً فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا کیونکہ باوجود اس کے کہ مدینہ پر حملہ کے وقت یہ مدینہ میں موجود تھے سوائے اس کے کہ اپنے گھر میں خاموش بیٹھے رہے ہوں اور ان مفسدوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے کوئی حصہ نہ لیا ہو عملی طور پر انہوں نے فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا۔" یہ ہے ان کی کمزوری کہ مدینہ میں ہونے کے باوجود مفسدوں کے خلاف کوئی حصہ نہیں لیا۔ان کو روکا نہیں۔لیکن عملاً انہوں نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا " اور ان مفسدوں کی بد اعمالیوں سے ان کا دامن " اس لحاظ سے بالکل پاک ہے۔"" " 681 حضرت علی کے زمانہ خلافت میں حضرت عمار بن یاسر حضرت علی کے زمانہ خلافت میں حضرت عمار بن یاسر حضرت علی کے ہمراہ رہے اور ان کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شریک ہوئے۔ابو عبد الرحمن السلمی کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں ہم حضرت علی کے ساتھ تھے۔میں نے حضرت عمار بن یاسر کو دیکھا کہ وہ جس طرف بھی جاتے یا جس طرف بھی رُخ کرتے نبی کریم صلی علیہ یکم کے اصحاب ان کے پیچھے جاتے گویا وہ ان کے لئے ایک جھنڈے 682 کے طور پر تھے۔عبد اللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ صفین میں میں نے حضرت عمار بن یاسر کو دیکھا۔( یہ وہ جنگ ہے جو حضرت علی اور امیر معاویہ، جو شام کا گورنر تھا، ان کے درمیان ہوئی تھی۔کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا) آپ بوڑھے ہو چکے تھے۔عبد اللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں۔طویل القامت تھے۔آپ کا رنگ گندم گوں تھا۔حضرت عمار کے ہاتھ میں نیزہ تھا آپ کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔حضرت عمار نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نے اس نیزے کے ہمراہ رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں۔یہ چوتھی جنگ ہے۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ لوگ ہمیں مار مار کر ھجر کی کھجور کی شاخوں تک پسپا کر دیں تب بھی میں یہی سمجھوں گا کہ ہم حق پر ہیں اور یہ لوگ غلطی پر ہیں۔683 ابوالبختری کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر نے کہا کہ میرے پینے کے لئے دودھ لاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی الی یکم نے مجھے فرمایا تھا کہ تم دنیا میں جو آخری مشروب پیو گے وہ دودھ ہو گا۔چنانچہ دودھ لایا گیا۔حضرت عمار نے دودھ پیا اور پھر آگے بڑھ کر لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عمار کے پاس دودھ لایا گیا تو حضرت عمار بنسے اور کہا کہ 684