اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 295

اصحاب بدر جلد 5 295 679 شادابی کی وجہ سے سواد کہا جاتا ہے) پر مامور کر کے بھیجا ہے۔پھر اہل کوفہ کی شکایت کی وجہ سے حضرت عمرؓ نے حضرت عمار بن یاسر کو معزول کر دیا۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے بعد میں ان سے پوچھا کہ کیا ہمارا تمہیں معزول کرنا نا گوار تو نہیں گزرا تھا ؟ حضرت عمار نے کہا کہ آپ نے کہا ہے، پوچھ لیا ہے تو مجھے تو اس وقت بھی ناگوار معلوم ہو ا تھا۔اچھا نہیں لگا تھا جب آپ نے مجھے عامل بنایا تھا لیکن بنا دیا تھا۔اطاعت تھی اس لئے میں بن گیا۔اور اس وقت بھی ناگوار گزرا ہے جب مجھے معزول کیا گیا۔0 ناگوار بیشک گزرا لیکن بولے نہیں اور ہٹنے پر بھی کامل اطاعت کی یہاں تک کہ جب حضرت عمر 680 نے خود پوچھا ہے تو پھر جو دل میں تھا جو سچائی تھی وہ بیان کر دیا۔حضرت عثمان کے خلاف فتنہ اور حضرت عمار بن یاسر حضرت عثمان کے خلاف فتنہ پھیلانے والے منافقین اور باغیوں نے جب مدینہ میں شورش برپا کی تو بد قسمتی سے اپنی سادگی کی وجہ سے حضرت عمار بن یاسر بھی ان کے جھانسے میں آگئے، دھو کہ میں آگئے گو کہ عملی طور پر انہوں نے کسی بھی قسم کا ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اس بارے میں فرماتے ہیں کہ "صرف تین شخص مدینہ کے باشندے ان لوگوں کے ساتھ تھے۔ایک تو محمد بن ابی بکر جو حضرت ابو بکر کے لڑکے تھے اور مورخین کا خیال ہے کہ وہ بوجہ اس کے کہ لوگ ان کے باپ کے سبب ان کا ادب کرتے تھے ان کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ میں بھی کوئی حیثیت رکھتا ہوں ورنہ نہ ان کو دنیا میں کوئی سبقت حاصل تھی، نہ رسول کریم صلی علیم کی صحبت حاصل تھی، نہ بعد میں ہی خاص طور پر دینی تعلیم حاصل کی۔حجۃ الوداع کے ایام میں پیدا ہوئے اور رسول کریم صلی علی کم کی وفات کے وقت ابھی دودھ پیتے بچے تھے۔چوتھے سال ہی میں تھے کہ حضرت ابو بکر فوت ہو گئے اور اس بے نظیر انسان کی تربیت سے بھی فائدہ اٹھانے کا ان کو موقع نہیں ملا۔دوسرا شخص محمد بن ابی حذیفہ تھا۔یہ بھی صحابہ میں سے نہ تھا۔اس کے والد یمامہ کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور حضرت عثمان نے اس کی تربیت اپنے ذمہ لے لی تھی اور بچپن سے آپ نے اسے پالا تھا۔جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو اس نے آپ سے کوئی عہدہ طلب کیا۔آپ نے انکار کیا۔اس پر اس نے اجازت چاہی کہ میں کہیں باہر جا کر کوئی کام کروں۔آپ نے اجازت دے دتی اور یہ مصر چلا گیا۔وہاں جا کر عبد اللہ بن سبا کے ساتھیوں سے مل کر حضرت عثمان کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا نا شروع کیا۔جب اہل مصر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تو یہ ان کے ساتھ ہی آیا مگر کچھ دور تک آکر واپس چلا گیا اور اس فتنہ کے وقت مدینہ میں نہیں تھا۔تیسرے شخص عمار بن یاسر تھے۔یہ صحابہ میں سے تھے اور اور فتنہ مد ان کے دھوکہ کھانے کی وجہ یہ تھی " حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے " کہ یہ سیاست یہ سے باخبر نہ تھے "سیاست بالکل نہیں آتی تھی " جب حضرت عثمان نے ان کو مصر بھیجا کہ وہاں کے والی کے انتظام کے متعلق رپورٹ کریں تو عبد اللہ بن سبانے ان کا استقبال کر کے ان کے خیالات کو مصر کے گورنر