اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 294

اصحاب بدر جلد 5 294 الله سة لئے روانہ فرمایا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے ہیں کہ "سارہ نام ایک عورت جو کہ مکہ میں رہتی تھی اور خاندان بنی ہاشم کے زیر سایہ پرورش پایا کرتی تھی ان ایام میں جبکہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے فتح مکہ کے واسطے کوچ کی تیاری کی آپ صلی علی ایم کے پاس مدینہ میں آئی۔آنحضرت صلی علیہ کم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو مسلمان ہو کر مکہ سے بھاگ آئی ہے۔اس نے جواب دیا کہ نہیں میں مسلمان ہو کر نہیں آئی بلکہ بات یہ ہے کہ میں اس وقت محتاج ہوں اور آپ صلی علیم کا خاندان ہمیشہ میری پرورش کیا کرتا ہے اس واسطے میں آپ کے پاس آئی ہوں تا کہ مجھے کچھ مالی امداد مل جائے۔اس پر آنحضرت صلی علیکم نے بعض لوگوں کو فرمایا اور انہوں نے اس کو کچھ کپڑا اور روپیہ وغیرہ دیا جس کے بعد وہ واپس اپنے وطن کو روانہ ہو گئی۔جب روانہ ہونے لگی تو حاطب نے جو کہ اصحاب میں سے تھا اس کو دس درہم دیئے اور کہا کہ میں تجھے ایک خط دیتا ہوں۔یہ خط اہل مکہ کو دے دینا۔اس بات کو اس نے قبول کیا اور وہ خط بھی لے گئی۔اس خط میں حاطب نے اہل مکہ کو خبر کی تھی کہ آنحضرت صلی اہلیہ کلم نے مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا ہے تم ہو شیار ہو جاؤ۔وہ عورت ہنوز مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اہل علم کو بذریعہ وحی الہی خبر مل گئی کہ وہ ایک خط لے کر گئی ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت حضرت علی کو بمعہ عمار اور ایک جماعت کے روانہ کر دیا کہ اس کو پکڑ کر اس سے خط لے لیں اور اگر نہ دے تو اسے ماریں۔چنانچہ اس جماعت نے اس کو راہ میں جا پکڑا۔اس نے انکار کیا اور قسم کھائی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں جس پر حضرت علی نے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ ہم کو جھوٹ نہیں کہا گیا۔بذریعہ وحی الہی کے یہ خبر ملی ہے۔خط ضرور تیرے پاس ہے۔تلوار کے ڈر سے اس نے خط اپنے سر کے بالوں میں سے نکال دیا۔جب خط آگیا اور معلوم ہوا کہ وہ حاطب کی طرف سے ہے تو حاطب بلایا گیا۔آنحضرت صلی علیکم نے اس سے پوچھا کہ یہ تونے کیا کیا؟ اس نے کہا مجھے خدا کی قسم ہے جب سے میں ایمان لایا ہوں کبھی کافر نہیں ہوا۔بات صرف اتنی ہے کہ مکہ میں میرے قبائل کا کوئی حافی اور خبر گیر نہیں۔میں نے اس خط سے صرف یہ فائدہ حاصل کرنا چاہا تھا کہ کفار میرے قبائل کو دکھ نہ دیں۔حضرت عمرؓ نے چاہا کہ حاطب کو قتل کر دیں مگر آنحضرت صلی اللہ تم نے منع کیا اور فرمایا اللہ تعالی نے حاب بدر پر خوشنودی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کر وجو بھی ہو میں نے تمہیں بخش دیا۔تو یہ غلطی ان کی نادانستگی میں تھی۔نیت مسلمانوں کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔حضرت عمار بن یاسر کوفہ کے حاکم 67811 حضرت عمرؓ نے حضرت عمار بن یاسر کو ایک دفعہ کوفے کا والی بنایا اور اہل کوفہ کے نام حسب ذیل فرمان جاری فرمایا کہ: اما بعد میں عمار بن یا سر کو امیر اور ابن مسعودؓ کو معلم اور وزیر مقرر کر کے بھیجتا ہوں۔بیت المال کا انتظام بھی ابن مسعودؓ کے سپر د کیا ہے۔یہ دونوں حضرت محمد صلی علیم کے ان معزز اصحاب میں سے ہیں جو غزوہ بدر میں شریک تھے۔اس لئے ان دونوں کی فرمانبرداری اور اطاعت اور پیروی کرو۔میں نے ابن ام عبد (حضرت عبد اللہ بن مسعود ) کے بارے میں تمہیں اپنے اوپر ترجیح دی ہے۔میں نے عثمان بن محنّیف کو السواد ( عراق کا علاقہ جس کو بیان کیا گیا ہے کہ اس کی سرسبزی اور