اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 285
اصحاب بدر جلد 5 285 رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بارہ ہجری میں ان کی شہادت ہوئی۔640 639 امام شعبی نے عکاشہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ ایک شخص تھا جو کہ جنتی تھا مگر پھر بھی زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتا تھا اور وہ عکاشہ بن محصن تھے۔دو ہجری میں غزوہ بدر کے فوراً بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جحش کو ایک مہم پر روانہ فرمایا۔اس سر یہ میں حضرت عکاشہ بن محصن بھی شامل تھے۔641 سیرت حلبیہ میں ہے کہ غزوۂ احد کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اپنے کمان سے تیر اندازی فرماتے رہے جس کا نام گنوم تھا کیونکہ اس سے تیر اندازی کے وقت کوئی آواز نہیں پیدا ہوتی تھی۔آخر مسلسل تیر اندازی کی وجہ سے اس کمان کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ایک روایت میں یوں ہے کہ تیر یہاں تک کہ آپ کی اس کمان کا ایک سر اٹوٹ گیا جس میں تانت باندھی جاتی ہے۔غرض مسلسل تیر چلانے سے وہ کمان ٹوٹ گئی۔آپ کے ہاتھ میں کمان کی بالشت بھر ڈوری باقی رہ گئی۔حضرت عکاشہ بن محصن نے کمان کی ڈوری باندھنے کے لیے وہ آپ سے لی مگر وہ ڈور چھوٹی پڑ گئی اور انہوں نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ڈور چھوٹی پڑ گئی ہے۔آپ نے فرمایا اسے کھینچو پوری ہو جائے گی۔حضرت عکاشہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے میں نے ڈور کھینچی تو وہ کھینچ کر اتنی لمبی ہو گئی کہ میں نے اس سے کمان کے سر پر دو تین بل بھی دیے اور اطمینان سے اس کو باندھ دیا۔642 ایک روایت ہے کہ چھ ہجری میں عیبہ بن حضن نے غطفان کے گھڑ سواروں کے ساتھ غائبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ دینے والی اونٹنیوں پر حملہ کیا۔یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ چرا کرتے تھے۔چراگاہ تھی۔غابہ میں بنو غفار کا ایک مرد اور ایک عورت بھی رہتے تھے۔دشمنوں نے حملہ کر کے مرد کو قتل کر دیا اور عورت کو اونٹنیوں کے ساتھ لے گئے۔اس واقعہ سے سب سے پہلے باخبر ہونے والے حضرت سلمہ بن اکو منع تھے۔وہ صبح کے وقت غابہ کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کا غلام اور اس کے ساتھ گھوڑا تھا۔جب وہ ثنية الوداع مقام پر چڑھے تو انہوں نے حملہ آوروں کے بعض گھوڑے دیکھے تو سلع پہاڑ کی ایک جانب سے اوپر چڑھے اور پیچھے اپنے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا۔پھر حملہ آور جماعت کے تعاقب میں یہ شکاری جانور کی مانند تیزی سے نکلے یہاں تک کہ ان لوگوں کو جالیا اور ان پر تیر برسانے شروع کر دیے۔جب بھی گھڑ سوار اُن کی طرف متوجہ ہوتے تو حضرت سلمہ بھاگ جاتے اور واپس لوٹتے اور جب موقع ملتا تو وہ تیر برساتے۔جب اس واقعہ کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے بھی مدینہ میں اعلان کیا کہ خطرہ ہے۔گھڑ سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے۔ان گھڑ سواروں میں حضرت عکاشہ بن محصن اور دیگر صحابہ شامل تھے۔اس معرکہ میں حضرت عکاشہ بن محصن نے اوبار اور اس کے