اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 248

اصحاب بدر جلد 5 248 567 وفات کے بعد ان کا غلام شوید حضرت عُتبہ کا سامان اور ترکہ حضرت عمرؓ کے پاس لایا۔حضرت عُتبہ نے ستاون برس کی عمر پائی۔وہ دراز قد اور خوب صورت تھے۔ہم درختوں کے پتے کھایا کرتے تھے۔۔۔صحابہ کی ابتدائی حالت کسمپرسی خالد بن محمیر عدوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عُتبہ بن غزوان نے ہمیں خطاب کیا۔انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی۔پھر کہا آقا بعد دنیا نے اپنے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور اس نے تیزی سے پیٹھ پھیر لی ہے یعنی دنیا اب قیامت کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس میں کچھ بھی باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ جتنا برتن میں کچھ مشروب بیچ رہتا ہے جسے اس کا پینے والا چھوڑ دیتا ہے۔تم یہاں سے ایک لازوال گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو یعنی یہ زندگی عارضی ہے۔پس جو تمہارے پاس ہے اس سے بہتر میں منتقل ہو جاؤ کیونکہ ہمارے پاس ذکر کیا گیا ہے کہ ایک پتھر جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے گا پھر وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا اور اس کی تہ تک نہ پہنچ پائے گا اور اللہ کی قسم ! اس دوزخ کو ضرور بھر ا جائے گا۔یعنی کہ گناہ گاروں کو ایسی جہنم میں پھینکا جائے گا۔اس لیے موقع ہے اس زندگی سے فائدہ اٹھاؤ اور نیکیوں کی طرف توجہ دو۔یہ مقصد تھا آپ کا۔پھر فرمایا کیا تم تعجب کرتے ہو؟ اور تمہیں بتایا گیا کہ جنت کے دو کواڑوں میں سے ایک کواڑ سے دوسرے کو اڑ تک چالیس برس کا فاصلہ ہے اور ضرور اس پر ایک ایسا دن آئے گا کہ وہ لوگوں کی کثرت سے بھر جائے گی۔میں نے اپنے تئیں دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ سات میں سے ایک تھا اور کبھی درختوں کے پتوں کے سوا ہمارا کوئی کھانا نہیں تھا یعنی وہ زمانہ ہم پر آیا تھا کہ جب ہماری بہت بری حالت تھی۔درختوں کے پتے ہم کھایا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔پھر آپ کہتے ہیں اپنا واقعہ سنا رہے ہیں کہ مجھے ایک چادر ملی اور اسے پھاڑ کر اپنے اور سعد بن مالک کے لیے دو ٹکڑے کر لیے۔یہ حالت تھی ہماری کہ پوری طرح ڈھانکنے کے لیے چادر بھی نہیں تھی۔آدھے کا میں نے اپنے جسم کو لپیٹنے کے لیے ازار بنالیا اور آدھے کا سعد نے۔آپ نے فرمایا لیکن آج ہم میں سے کوئی صبح کرتا ہے تو کس شہر کا امیر ہوتا ہے اور میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نفس میں بڑا مجھوں اور اللہ کے نزدیک بہت چھوٹا ہوں۔اس لیے آپ نے فرمایا کہ میری تو عاجزی کی یہ حالت ہے کہ میں اپنے آپ کو بہت چھوٹا سمجھتا ہوں۔حالات اب تبدیل ہو گئے ہیں۔کشاکش پید ا ہو گئی ہے اور اب تم لوگوں کو بہت زیادہ فکر کرنی چاہیے۔پھر فرمایا کوئی نبوت ماضی میں ایسی نہیں ہوئی جس کا اثر زائل نہ ہوا ہو حتی کہ اس کا انجام بادشاہت نہ ہو اور تم حقیقت حال جان لو گے اور حکام کا تمہیں ہمارے بعد تجربہ ہو جائے گا۔568 آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں بھی ایسے حالات آجائیں گے کہ دنیا داری پیدا ہو جائے گی۔اس وقت تم دیکھ لینا کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ صحیح ہے لیکن تم لوگ ہمیشہ خداتعالی کی طرف توجہ رکھنا، دین کی طرف توجہ رکھنا، روحانیت کی طرف توجہ رکھنا اور اسی سے جنت میں جانے کے سامان پید اہو سکتے ہیں۔569