اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 245
245 اصحاب بدر جلد 5 بھی تھا اس لیے بھی اس واقعہ نے قریش کی آتش غضب کو بہت بھڑ کا دیا اور انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔الغرض اس واقعہ پر مسلمانوں اور کفار ہر دو میں بہت چھر میگوئیاں ہوئیں اور بالآخر قرآن کریم کی یہ آیت وحی ہوئی، نازل ہوئی۔اور اس کی وجہ سے پھر مسلمانوں کی تسلی اور تشفی بھی ہوئی کہ : يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالِ فِيْهِ قُلْ قِتَالُ فِيْهِ بِيرُ ۖ وَصَةٌ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَ كُفْرَ بِهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ ۚ وَ الْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا (البقرة:218) یعنی لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شہر حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ تو ان کو جواب دے کہ بے شک شہر حرام میں لڑنا بہت بری بات ہے لیکن شہر حرام میں خدا کے دین سے لوگوں کو جبر ارو کنابلکہ شہر حرام اور مسجد حرام دونوں کا کفر کرنا یعنی ان کی حرمت کو توڑنا اور پھر حرم کے علاقہ سے اس کے رہنے والوں کو بزور نکالنا جیسا کہ اے مشرکو ا تم لوگ کر رہے ہو یہ سب باتیں خدا کے نزدیک شہر حرام میں لڑنے کی نسبت بھی زیادہ بری ہیں اور یقینا شہر حرام میں ملک کے اندر فتنہ پیدا کرنا اس قتل سے بدتر ہے جو فتنہ کو روکنے کے لیے کیا جاوے اور اے مسلمانو ! کفار کا تو یہ حال ہے کہ وہ تمہاری عداوت میں اتنے اندھے ہو رہے ہیں کہ کسی وقت اور کسی جگہ بھی وہ تمہارے ساتھ لڑنے سے باز نہیں آئیں گے اور وہ اپنی یہ لڑائی جاری رکھیں گے حتی کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں بشر طیکہ وہ اس کی طاقت پائیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف رؤسائے قریش اپنے خونی پراپیگنڈے کو اَشْهُرِ محرم میں بھی برابر جاری رکھتے تھے بلکہ اشهر محرم کے اجتماعوں اور سفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان مہینوں میں اپنی مفسدانہ کارروائیوں میں اور بھی زیادہ تیز ہو جاتے تھے اور پھر کمال بے حیائی سے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے وہ عزت کے مہینوں کو اپنی جگہ سے ادھر اُدھر منتقل بھی کر دیا کرتے تھے جسے وہ نیٹی کے نام سے پکارتے تھے اور پھر آگے چل کر تو انہوں نے غضب ہی کر دیا کہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں باوجود پختہ عہد و پیمان کے کفار مکہ اور ان کے ساتھیوں نے حرم کے علاقہ میں مسلمانوں کے ایک حلیف قبیلہ کے خلاف تلوار چلائی اور پھر جب مسلمان اس قبیلہ کی حمایت میں نکلے تو ان کے خلاف بھی عین حرم میں تلوار استعمال کی۔پس اللہ تعالیٰ کے اس جواب سے یعنی جو قرآن کریم کی آیت ہے اس سے مسلمانوں کی تو تسلی ہوئی ہی تھی قریش بھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے اور اس دوران میں ان کے آدمی بھی اپنے دو قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مدینہ پہنچ گئے لیکن چونکہ ابھی تک سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان واپس نہیں آئے تھے تو آنحضرت صلی نیلم کو ان کے متعلق خدشہ تھا کہ اگر وہ قریش کے ہاتھ پڑ گئے تو قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔اس لیے آپ صلی الی یکم نے ان کی واپسی تک قیدیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میرے